خبرنامہ

معاشی دباؤ یا امن کی حکمت عملی؟ ٹرمپ کے فیصلوں کا دفاع

امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی حکمتِ عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسیاں وقتی دباؤ کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی عالمی استحکام کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے اور بعض غیر معمولی فیصلوں کا مقصد دنیا کو کسی بڑی اور تباہ کن جنگ سے بچانا ہے۔اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ٹرمپ موجودہ عالمی حالات کو محض معاشی تناظر میں نہیں دیکھ رہے بلکہ وہ امریکہ کی اقتصادی قوت کو ایک مؤثر سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ناقدین جسے ’قومی ایمرجنسی‘ قرار دے رہے ہیں، دراصل وہ اقدامات ہیں جو ایک حقیقی قومی بحران کو جنم لینے سے روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اصل ہنگامی صورتحال جنگ کا امکان ہے اور ٹرمپ کی پالیسیوں کا مقصد اسی خطرے کو ٹالنا ہے۔
گفتگو کے دوران اسکاٹ بیسنٹ نے گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے متنازع مؤقف کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور موجودہ عالمی سکیورٹی ماحول میں اس خطے کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق اگر گرین لینڈ امریکہ کا حصہ بن جاتا ہے تو نہ صرف اس کا دفاع یقینی ہو جائے گا بلکہ مستقبل میں کسی ممکنہ تنازع کا راستہ بھی روکا جا سکے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ کسی خطے کو محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ وہاں طاقت کا توازن واضح اور مضبوط ہو۔ اس تناظر میں گرین لینڈ کا امریکہ کے ساتھ الحاق ایک دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ محض علاقائی توسیع کے طور پر۔
اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر یورپی ممالک اس سوچ پر تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ قدم صرف امریکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ یورپ اور خود گرین لینڈ کے مفاد میں بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط امریکی کردار یورپ میں سکیورٹی کے خدشات کو کم کر سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اعتدال میں لا سکتا ہے۔آخر میں بیسنٹ نے زور دیا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں جارحیت پر نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے امن قائم رکھنے کے اصول پر مبنی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان فیصلوں کو روایتی سیاسی پیمانوں سے ہٹ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر