ڈونلڈٹرمپ: کوئی پُل گراتا ہے اور کوئی جنگی جہاز
ڈاکٹر سلیم خان
محاذ جنگ سے ایک ساتھ دو خبریں آئیں ۔ ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے امریکی صدر نے لکھا ’ایران کا سب سے بڑا پل گر کر تباہ ہو گیا ہے، جو اب کبھی استعمال نہیں ہو سکے گا۔ ابھی مزید بہت کچھ ہونا باقی ہے‘۔کرج شہر میں واقع 136 میٹر بلند ’بی ون‘ نامی یہ پل زیرِ تعمیر تھا اور اسے مشرقِ وسطیٰ کا بلند ترین پل تصور کیا جاتا ہے۔ اسےتہران سے ملانے والی ایک بڑی اور اہم شاہراہ کا حصہ بننا تھا۔ اس پر ہونے والے فضائی حملے میں دوشہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ اسی کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو ’پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام‘ کے ذریعے نشانہ نشانہ بنایا گیا ۔ امریکی میڈیا نے اسے ایف 15 بتایا ۔ پائلٹ نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی ۔ امریکی سی 130 طیارے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی تو ایک ملا اور دوسرے کو ایرانیوں نے پکڑ لیا ۔ ایرانی حکومت نے دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں ایک صدی پرانے طبی مرکز’پاسچر انسٹی ٹیوٹ آف ایران‘ پربمباری کرکے تباہ کردیا ۔
ایک ہی دن میں آنے والی یہ دو کامیابی کی خبریں حق و باطل کی حکمتِ عملی کا فرق نمایاں کرتی ہیں ۔ یہ بات کھل کر دنیا کے سامنے آجاتی ہے کہ امریکہ عوامی سہولیات کے انفا اسٹرکچر کو برباد کر کے اپنے دشمن کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے نشانے پر شہری بستیاں ، آمدورفت کے ذرائع اور طبی مراکز ہیں۔ اس کے برعکس ایران کی جانب سے حملہ آور فوجیوں کو نشانہ بنا یا جارہا ہے۔ کرج کا پل گرانے کی تصویر منسلک کرکے ٹرمپ نے لکھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران ڈیل کر لے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور ایک عظیم ملک بننے کی صلاحیت رکھنے والے اس ملک میں کچھ بھی باقی نہ بچے‘۔ اس مذموم بیان میں بھی صدرِ امریکہ کوایران کے عظیم ملک بننے کی صلاحیت کا اعتراف کرنا پڑا۔ اس دھمکی کے جواب میں ایرانی حکام نے امریکی صدر کی شرائط کو مسترد کرکے ملاقات سے انکار کردیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی دھونس اور دھمکی بے سود ثابت ہوئی۔امریکہ پُل گرا کر اپنے مقصد میں ناکام اور ایران جنگی جہاز گرانے کے بعد کامیاب و کامران ہوگیا۔ اس کے ساتھ جارح اور مجروح کا فرق بھی صاف ہوگیا تاکہ حریت پسندوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا سہل ہوجائے کہ انہیں کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے لیکن غلاموں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے اور دل میں خوف بسا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ نہ صداقت کو دیکھ پاتے ہیں اور نہ ان کا دل حمایتِ حق کی جرأت کرپاتا ہے۔بقول اقبال؎
سُرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے تُو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے
جہاں میں بندۂ حُر کے مشاہدات ہیں کیا تِری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے
ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آئے دن فتح کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری جانب امریکہ کے اندر برطرفی اور استعفوں کی جھڑی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ امریکی صدر جھوٹا ہے۔ کیا دنیا میں کبھی کسی ایسی جنگ کے دوران جبکہ فتح مندی قدم چوم رہی ہو فوج کے سپہ سالار کو برخواست کردیا جاتا ہے؟ اگر نہیں تو دوران جنگ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا فوج کے اعلیٰ ترین افسر، چیف آف آرمی سٹاف، جنرل رینڈی جارج سے استعفیٰ طلب کرکے انہیں فوراً اپنے عہدے سے فارغ کر دیناکیا کہتا ہے؟ یہی نا کہ ’جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے‘ اس لیے چلنے کی کوشش میں وہ اوندھے منہ گر جاتا ہے۔جنرل رینڈی اگست 2023ء سے چیف آف آرمی سٹاف کے منصب پر فائز تھے ۔ اگلے سال انہیں ویسے بھی سبکدوش ہونا تھا پھر اچانک ایران پر فوج کشی کی خبروں کے بیچ انہیں رسوا کرکے کیوں ہٹادیا گیا؟ یہ سوال امریکی شکست وریخت اور داخلی خلفشار کی داستان بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ امریکی جنرل سے ایسے وقت میں استعفیٰ مانگا گیا ہے جب ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔یہ ٹرمپ انتطامیہ کی بوکھلاہٹ نئی نہیں ہے ۔ اس سےپہلے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا یا گیاتھا۔قبل ازیں 5 مارچ کو ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا، جبکہ مارچ کے آخری ہفتے میں محکمہ ہوم لینڈ کی ترجمان کیٹی اچاریہ بھی بھگا دئیے گئے ۔
جنرل رینڈی کی برخواستگی کا چرچا جاری تھا کہ صدر کے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹ نِک اور لیبر سیکریٹری لوری چاویز-ڈی ریمر کے کام سے ناراضی بھی منظرِ عام پر آگئی بلکہ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل اور سیکریٹری آف دی آرمی ڈین ڈرسکول بھی اپنی عہدوں پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ٹرمپ کے قلعہ میں بھگدڑ کی ابتداء گزشتہ ماہ کی 17 کو امریکہ میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ سے ہوئی جنھوں نے ایران جنگ پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر امریکی انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ رسید کردیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی جنگ نے پوری طرح کنفیوزکردیا ہے اس لیے وہ آئے دن متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں ۔ ان کے اس رویہ نے عالمی مارکیٹ سمیت قریبی مشیروں کو بھی شدید بے چینی اور غیر یقینی کیفیت کا شکارکردیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ موصوف کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے اور وہ بدلتی صورت حال کے مطابق اوٹ پٹانگ فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی ۸؍ جنگیں رکوانے کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ کو اس بات کا غم ستا رہا ہے کہ ان کی اپنی لڑائی میں نہ کوئی ساتھ آرہا ہے اور نہ اسے روکنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
امریکہ کی معروف نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کی رائے ہے کہ ’کوئی نہیں جانتا کہ وہ سوچ کیا رہے ہیں‘۔کبھی تو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنگ میں شدت چاہتے ہیں جب کہ بعض مواقع پر وہ جنگ کے فوری خاتمے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ سابق امریکی حکام اسے واضح حکمت عملی کا فقدان قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس غیر یقینی صورتحال کو سوچی سمجھی سازش بتاتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں امریکہ کو عالمی بکھیڑوں سے الگ کرکے’ماگا‘ یعنی (Make America Great Again) کا نعرہ لگایا تھا ۔ اس طرح ’پھر سے امریکہ کو عظیم بنانے کا خواب ‘ بیچ کر انتخاب جیتنے والا امن کاعلمبردار آج کل جنگ نواز سینیٹر لنڈسے گراہم اور قدامت پسند مبصر مارک لیون کے رابطے میں ہے ۔ وہ ایک ہفتے کے اندر یوکرین اور روس کی جنگ روک دینے کاعزم رکھتے تھے مگر اس میں ناکام ہوگئے ۔ غزہ کو خالی کروا کرجدید ساحلِ سمندر تعمیر کرنےکا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا ۔ اس کے بعد انہوں نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کرکے وہاں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی جو کوشش کی اس میں ان کو غیر معمولی کامیابی مل گئی ۔ اسی نے ان کا دماغ خراب کردیا اور ایران پر چڑھ دوڑے ۔
ایران میں ٹرمپ کا پانسا الٹا پڑ گیا اور ایک ماہ کی جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ دشمن تومنتظر بیٹھا تھا ۔ بارہ دنوں کی پچھلی جنگ کے پیش نظر اس نے جنگی حکمت عملی وضع کررکھی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ رہبرِ معظم کی شہادت کے باوجود ایران کی منہ توڑ جوابی کارروائی نے ٹرمپ کے سارے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ۔ مشرق وسطیٰ کے تمام فوجی اڈے خالی ہوگئے ۔ ابراہم لنکن نامی بحری بیڑے کو میدان جنگ سے دور لے جانا اعترافِ شکست تھا ۔ اسرائیل کا مار مار کر بھرکس نکال دیا گیا ۔ امریکہ نوازوں پر آبنائے ہر مز بند کرکے ایران نے اپنا تسلط قائم کیا تو امریکہ کوساری دنیا کے سامنے جھولی پسارنا پڑا اور سب نے اسے دھتکار دیا۔اپنے تمام حواریوں سے مایوس امریکی صدر نے اب یہ عندیہ دے دیا ہےکہ وہ آبنائے ہرمز کی بندش اور کسی معاہدے کے بغیر بھی آئندہ دو سے تین ہفتوں میں کامیابی کا اعلان کر کے جنگ ختم کرسکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی تعینات کر کے ممکنہ زمینی حملے کی تیاری بھی فرما رہے ہیں۔
صدرٹرمپ کے کنفیوژن کا مظہر ان کی دھمکیاں اور اس میں چھوٹ ہے۔ پہلی دھمکی48 گھنٹےکے اندر ہرمز کھولنے کی تھی۔ اس کو پہلے5 اور پھر 10 دن کے لیے بڑھاکر 6 ؍اپریل تک مؤخر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ یہ الٹی میٹم ایرانی حکومت کی درخواست پر دیا گیا ہے تاکہ جاری مذاکرات کے لیے وقت مل سکے۔ پسِ پردہ بات چیت کے مثبت ہونے کی خوشخبری بھی سنائی گئی جبکہ ایران نے بات چیت سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ایران نے اس حوالے سے اپنی شرائط واضح کر رکھی ہیں اور امریکی سفارت کاری پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے۔ اس دوران ثالثی کرنے والے پاکستان نے چین سے گارنٹی لینے کی تجویز پیش کرکے امریکہ کے زخموں پر نمک پاشی کردی ہے۔جنگی جنون میں مبتلا صدر ٹرمپ کے بیم و رجا کی حالیہ کیفیت پر غالب کا مشہورشعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
کررہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی





