مشرقی چمپارن میں زہریلی شراب سے ہلاکتیں سات ہوگئیں
مشرقی چمپارن میں زہریلی شراب سے سات افراد ہلاک، متعدد زیر علاج، پولیس تحقیقات جاری، مرکزی ملزم گرفتار، کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
بہار کے ضلع مشرقی چمپارن میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جس نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے روز زیرِ علاج مزید دو افراد دم توڑ گئے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، متعدد افراد اس واقعے کے بعد مختلف اسپتالوں میں داخل ہیں، جن میں سے تقریباً 14 مریضوں کی حالت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے کم از کم تین کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ہفتے کی صبح جن دو افراد کی موت واقع ہوئی، ان کی شناخت لال کشور رائے اور لڈو ساہ کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ دونوں کافی دیر سے زیرِ علاج تھے، تاہم ان کی حالت بگڑنے کے باعث انہیں بچایا نہ جا سکا۔اس معاملے پر پولیس بھی متحرک ہو گئی ہے اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ چمپارن رینج کے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہری کشور رائے نے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ تقریباً 17 سے 18 افراد نے ایک ہی جگہ سے شراب پی تھی۔ ان کے مطابق، یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ شراب کہاں سے آئی اور اس کی تیاری میں کیا خامیاں رہ گئیں۔
پولیس حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اموات کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شراب کی تیاری کے دوران ممکنہ طور پر کسی قسم کی ملاوٹ یا تکنیکی خرابی ہوئی، جس کے باعث یہ زہریلی بن گئی۔ اسی زہریلے اثر کی وجہ سے لوگوں کی حالت بگڑی اور اموات پیش آئیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر غیر قانونی شراب کے کاروبار اور اس کے خطرناک نتائج پر سوالات کھڑے کرتا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔





