کیرل میں الیکشن کمیشن خط پر بی جے پی مہر تنازع
کیرل میں الیکشن کمیشن کے خط پر بی جے پی مہر، وضاحت میں دفتری غلطی قرار، اپوزیشن نے غیر جانبداری پر سوال اٹھائے.
کیرل میں حال ہی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ایک سرکاری خط، جو الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مہر نظر آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سخت اعتراضات اٹھائے۔ اس معاملے پر کانگریس اور سی پی آئی (ایم) نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کیے اور اسے ایک تشویشناک واقعہ قرار دیا۔تاہم اس تنازعے کے بڑھنے کے بعد الیکشن کمیشن نے وضاحت پیش کی ہے۔ کیرل کے چیف الیکٹورل آفیسر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کی گئی ہے اور یہ محض دفتری سطح کی ایک غلطی تھی، جسے فوری طور پر شناخت کر کے درست کر لیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔
وضاحت کے مطابق بی جے پی کی کیرل یونٹ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے دفتر سے 2019 کے ان قواعد کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی جو امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کی تشہیر سے متعلق ہیں۔ اس درخواست کے ساتھ پارٹی نے 2019 کے اصل حکم نامے کی ایک فوٹو کاپی بھی جمع کرائی تھی، جس پر پارٹی کی مہر لگی ہوئی تھی۔ دفتری عملے سے یہ کوتاہی ہوئی کہ انہوں نے اس دستاویز پر موجود مہر کو نظرانداز کر دیا اور غلطی سے وہی کاپی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی بھیج دی۔الیکشن کمیشن نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر گمراہ کن معلومات نہ پھیلائی جائیں۔ کمیشن نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف، محفوظ اور کسی بھی بیرونی دباؤ سے آزاد ہے۔
دوسری جانب، کانگریس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی ادارے کے خط پر کسی سیاسی جماعت کی مہر کا ہونا اس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے بھی طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ہی قوت دونوں اداروں کو چلا رہی ہو، اور کم از کم ظاہری طور پر تو اداروں کے درمیان فرق برقرار رکھا جانا چاہیے۔





