قرآن سے متعلق متنازع بیان، بی جے پی نیتا اسیم سرکار مشکل میں
بی جے پی ایم ایل اے اسیم سرکار کے بیان پر قرآن توہین الزام، کئی تھانوں میں ایف آئی آر، پارٹی نے خود کو الگ کیا۔
مغربی بنگال کے نادیہ ضلع کی ہری نگھاٹا اسمبلی سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی اسیم سرکار کے خلاف ریاست کے مختلف تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقلیتی طبقے، خصوصاً مسلمانوں کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی بات کہی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے دیے گئے ایک بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔الزام ہے کہ اسیم سرکار نے قرآن کے حوالے سے نازیبا اور قابلِ اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ اس بیان کے منظرِ عام پر آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں نے سخت اعتراض کیا اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ریاستی وزیرِ مملکت اخترالزماں نے مرشدآباد کے رگھوناتھ گنج تھانے میں اس سلسلے میں شکایت درج کرائی، جبکہ جنوبی 24 پرگنہ کے بسانتی تھانے میں جماعتِ اسلامی ہند نے بھی تحریری شکایت دی ہے۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ اسمبلی امیرالاسلام نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اسیم سرکار نے دانستہ طور پر اسلام اور مسلمانوں کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے سماج میں نفرت اور کشیدگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ جماعتِ اسلامی ہند نے بھی اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، توہین آمیز اور پارلیمانی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔دوسری جانب، خود اسیم سرکار نے بھی جمعہ کی رات نادیہ ضلع کے چکدہ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیان کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جس پر انہوں نے پولیس سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔ اسیم سرکار کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پھیلایا گیا۔اس تنازع کے بڑھنے کے بعد بی جے پی نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا ہے۔
بنگاؤں سے پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر شانتنو ٹھاکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اسیم سرکار کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی، کیونکہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے۔یہ بیان دراصل شمالی 24 پرگنہ کے بینیپول علاقے میں منعقد ایک سبھا کے دوران دیا گیا تھا، جو بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم کے خلاف احتجاج کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ریاستی پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔





