چین اور ایران میں رابطہ، مستقل جنگ بندی پر زور اور امن کی اپیل
چین اور ایران کے وزرائے خارجہ میں رابطہ، ایران نے مستقل جنگ بندی کی حمایت کی، چین نے مذاکرات اور خطے میں امن کی اپیل کی۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور ممکنہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران ایران کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عارضی نوعیت کی نہیں ہونی چاہیے بلکہ مکمل اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ضروری ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چینی ہم منصب وانگ یی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران محض وقتی جنگ بندی نہیں چاہتا بلکہ ایسا حل درکار ہے جو مکمل طور پر جنگ کے خاتمے کی ضمانت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے سنجیدہ اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی بھی تنازع سے بچا جا سکے۔
اسی گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بات سامنے آئی۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ یہ اہم سمندری راستہ تمام ممالک کے لیے کھلا ہے اور اس سے بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی ملک اس جاری تنازع کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کے جہازوں کے لیے یہ راستہ کھلا نہیں ہوگا۔ اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی کی حساس نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اس موقع پر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر اور پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔ چین نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور امن قائم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔
دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس تنازع کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران چاہیں تو پاکستان اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔





