زیلینسکی کی قیادت میں یوکرین کی سلامتی پر مشاورت جاری
زیلینسکی نے اتحادی رہنماؤں سے ملاقات میں جنگ بندی، سلامتی ضمانتوں اور یوکرین کے لیے عالمی حمایت مضبوط بنانے پر زور دیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ ایک اہم یورپی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں، جہاں یوکرین سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہاں اُن ممالک کے رہنما جمع ہو رہے ہیں جو یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اس اجلاس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے علاوہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے نمائندوں سے بھی بات چیت متوقع ہے۔زیلینسکی کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد یوکرین کے لیے مزید مضبوط سیکیورٹی انتظامات اور دفاعی تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ شراکت دار ممالک ایسے عملی اقدامات پر متفق ہوں جن سے یوکرینی عوام کو حقیقی تحفظ مل سکے۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جو مشکل حالات میں یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس اہم اجلاس کی میزبانی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کر رہے ہیں۔ پیرس میں ہونے والی اس ملاقات میں یوکرین کے قریبی اتحادی ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہو رہے ہیں۔ اس اجتماع کا مقصد روس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر پیش رفت کو تیز کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے واضح لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق 30 سے زائد ممالک کے رہنما اور اعلیٰ عہدیدار اس غیر رسمی اتحاد کا حصہ ہیں، جسے “کوئلِیشن آف دی ولنگ” کہا جا رہا ہے۔ یہ تمام ممالک یوکرین کی حمایت کے لیے مختلف سطحوں پر تعاون کر رہے ہیں اور اسی تعاون کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کے لیے یہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔
اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے نمائندے بھی موجود ہیں، جن میں امریکی ثالث سٹیو وِٹکوف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی عزیز جیرڈ کشنر کی شرکت کی بھی اطلاعات ہیں، جس سے اجلاس کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔واضح رہے کہ زیلینسکی کی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی ہوئی تھی، جس کے بعد زیلینسکی نے کہا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ایک مجوزہ منصوبے پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے۔ تاہم یہ تجاویز ابھی تک روس کے سامنے باضابطہ طور پر پیش نہیں کی گئیں اور ماسکو کی جانب سے اب تک کسی مثبت ردِعمل کے آثار نظر نہیں آئے۔ اس کے باوجود یوکرین اور اس کے اتحادی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔





