خبرنامہ

کانگریس کی مسلسل ہار، راہل گاندھی پر سوالوں کی بوچھاڑ

نئی دہلی۔بہار کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر کانگریس اور خاص طور پر راہل گاندھی کی قیادت پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کی جانب سے ان نتائج کو ’’ووٹوں کی چوری‘‘ قرار دیا جا رہا ہے جب کہ سیاسی مخالفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی کی رہنمائی میں کانگریس متعدد انتخابات میں شکست کھا چکی ہے۔ اس صورتحال نے راہل گاندھی کے انتخابی کارکردگی کے ریکارڈ کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ تاہم اس بحث سے قبل راہل گاندھی کے سیاسی سفر کا جائزہ ضروری ہے۔راہل گاندھی نے 2004 میں عملی سیاست میں قدم رکھا جب وہ امیٹھی سے پہلی بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ 2007 میں انہیں کانگریس کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا، جہاں یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کی تنظیمی سرگرمیاں ان کے ماتحت رہیں۔ 2013 میں انہیں پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا اور 2014 کے عام انتخابات میں وہ کانگریس کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے غیر اعلانیہ امیدوار سمجھے گئے۔
سال 2017 میں راہل گاندھی کانگریس کے صدر بنے، مگر 2019 کے عام انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ 2024 میں انہیں ایک نئی سیاسی ذمہ داری ملی اور وہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر سامنے آئے۔ماہرین کے مطابق راہل گاندھی ابتدا ہی سے پارٹی کی انتخابی مہمات میں اہم کردار ادا کرتے رہے، لیکن انتخابی حکمتِ عملی میں ان کی حقیقی شمولیت 2007 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے شروع ہوئی۔ 2009 کے عام انتخابات میں یوپی سے کانگریس کو 21 نشستیں حاصل ہونا راہل کی حکمتِ عملی کا نمایاں نتیجہ تصور کیا جاتا ہے، مگر 2012 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ چوتھے نمبر پر رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر راہل گاندھی کے انتخابی ریکارڈ کو منصفانہ انداز میں دیکھا جائے تو 2014 کے عام انتخابات سے آغاز کیا جانا چاہیے، کیونکہ اسی دور سے کانگریس کو انتخابی میدان میں شدید مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں۔ 2014 میں پارٹی کو صرف 44 نشستیں ملیں، اور اس کے بعد سے چند ریاستی انتخابات کے علاوہ کانگریس کو مسلسل شکستوں کا سامنا رہا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر