بھوپال میں کانگریس کا بڑا کسان اجتماع، حکومت پر سخت تنقید
بھارت میں کانگریس رہنماؤں نے بھوپال جلسے میں حکومت پر تنقید، یوتھ کانگریس احتجاج کی حمایت کی۔
بھارت کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب کانگریس قیادت نے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں منعقدہ ’’کانگریس کسان مہاچوپال‘‘سے خطاب کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر ملیکاارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راجل گاندھی نے کسانوں اور نوجوان کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ملیکارا جن کھرگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس کی تاریخ ملک کی خدمت اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ملک میں کامن ویلتھ گیمز کا انعقاد ہوا تھا تو بعض سیاسی جماعتوں نے احتجاجی اقدامات کیے تھے، مگر آج وہی عناصر کانگریس پر ملک کی توہین کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے ہمیشہ جمہوری اقدار اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوان کانگریس کے کارکنوں نے بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آواز بلند کی، جسے حکومت نے ناپسندیدہ قرار دیا۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بے خوف ہیں اور ملک کے نوجوانوں کی آواز بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان طبقہ روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے، جو اس کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں حوصلہ ہے تو وہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بین الاقوامی معاملات میں حکومت دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔یاد رہے کہ دہلی میں منعقدہ ایک اے آئی سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کے چند کارکنوں نے احتجاج کیا تھا، جس پر حکمراں جماعت سمیت دیگر سیاسی حلقوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاج کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود وقار برقرار رہنا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بیانات اور جوابی بیانات سامنے آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی سیاست میں بحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔





