امریکہ تجارتی معاہدہ پر کانگریس کی مودی پر تنقید
کانگریس نے امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا، بجٹ اور کسان پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
نریندر مودی اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کے معاملے پر سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ معاہدہ قومی مفادات کے برخلاف ہے اور اس کے دور رس منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ مالی سال کا بجٹ غیر مؤثر اور بے جان محسوس ہوتا ہے۔ ان کے بقول بجٹ میں معاشی سمت کے حوالے سے واضح منصوبہ بندی دکھائی نہیں دیتی اور اس میں فکری تھکن کے آثار نمایاں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حصص بازار نے بھی بجٹ پر مثبت ردِعمل ظاہر نہیں کیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل دکھائی دیا۔
جےرام رمیش کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش ہونے کے تقریباً پندرہ دن بعد وزیر اعظم کو ایک خصوصی گفتگو کرنا پڑی، جو ان کے نزدیک محض تاثر سازی کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق پارلیمان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کے بعد حکومت عوامی توجہ دوسری جانب مبذول کرانا چاہتی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں حکومت نے مضبوط مؤقف اختیار نہیں کیا اور یہ قدم ملک کے کسانوں اور مقامی صنعتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کر رہی ہے اور حالیہ پیش رفت اصل معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ معاہدے کی تمام تفصیلات ایوان اور عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر وزیر اعظم کے سامنے پانچ اہم سوالات رکھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اس معاہدے سے کسانوں، چھوٹے کاروباری افراد اور ملکی صنعت کو عملی طور پر کیا فائدہ پہنچے گا اور کن شرائط کے تحت یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ آیا اس سمجھوتے میں زرعی شعبے یا مقامی پیداوار پر کسی قسم کی رعایت دی گئی ہے۔تاحال حکومت کی جانب سے ان الزامات پر مفصل ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ پارلیمانی کارروائی اور عوامی مباحث کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔





