مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر متضاد خبریں اور افواہیں
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر متضاد خبریں، ایران تردید کرتا، غیر ملکی میڈیا زخمی اور روس منتقلی کا دعویٰ کرتا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں مختلف افواہیں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، جس سے عالمی سطح پر تشویش اور تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ حملوں کے دوران وہ زخمی ہو گئے تھے، تاہم ایرانی حکام ان خبروں کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔کویتی اخبار الجریدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران کے سینئر ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو 28 فروری کو ہونے والے ایک مبینہ حملے میں چوٹیں آئیں، جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت واقع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، ان کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خفیہ طور پر علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا، جہاں وہ ماسکو میں ایک محفوظ طبی مرکز میں زیر علاج رہے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ذاتی طور پر یہ تجویز دی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو بہتر علاج کے لیے روس بھیجا جائے۔ کریملن نے 10 مارچ کو دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کی تصدیق بھی کی، تاہم اس گفتگو کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔دوسری جانب کچھ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ٹانگوں، بازو اور ہاتھ میں زخم آئے، جبکہ بعض رپورٹس میں ان کے پاؤں میں فریکچر اور چہرے پر معمولی چوٹوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی متضاد دعوے کیے ہیں۔
تاہم ایران کی جانب سے ان خبروں کی مکمل تردید سامنے آئی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر جلد ہی عوام کے سامنے آئیں گے اور اپنا پیغام دیں گے۔
مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ حالت کے بارے میں یقین نہیں، حتیٰ کہ ان کے زندہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور مقام کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف غیر ملکی میڈیا انہیں زخمی اور بیرون ملک زیر علاج قرار دے رہا ہے، جب کہ ایرانی حکام ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مکمل صحت کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ حقیقت کیا ہے، اس کا واضح تعین فی الحال ممکن نہیں۔





