چین کا ٹرمپ کو جواب، گرین لینڈ پرامریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل
چین نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دھمکیوں اور تجارتی دباؤ کے بجائے عالمی قوانین کا احترام کرے۔
چین نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر دی جانے والی دھمکیوں پر باضابطہ ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کو سخت مگر محتاط پیغام دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے نام نہاد چینی خطرے کو بہانے کے طور پر استعمال کرنا بند کرے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔پیر کے روز چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی نظام کی بنیاد اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر قائم ہے اور تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اسی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنے اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں طاقت، دباؤ یا دھمکیوں کے بجائے بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
چینی ترجمان نے یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دیا، جس میں امریکی صدر کی حالیہ پالیسی اور بیانات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والی اشیا پر دس فیصد اضافی ٹیرِف عائد کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اگر گرین لینڈ کو امریکہ کی جانب سے خریدنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو جون کے آغاز سے ان محصولات کی شرح بڑھا کر پچیس فیصد کر دی جائے گی۔چین کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے تجارتی دباؤ نہ صرف عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں عدم استحکام بھی پیدا کرتے ہیں۔ گوو جیاکن نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اور انہیں سودے بازی یا طاقت کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کا یہ بیان دراصل امریکہ کو ایک بالواسطہ تنبیہ ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں ذمے دارانہ رویہ اختیار کرے۔ چین پہلے ہی عالمی سطح پر یکطرفہ پابندیوں اور تجارتی جنگوں کی مخالفت کرتا رہا ہے، اور اس تازہ ردِعمل کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر گرین لینڈ کا معاملہ تیزی سے توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف امریکہ اور یورپ کے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو عالمی قوانین کے خلاف ہو یا عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے۔





