ایران پر حملے کے بعد تحمل کی اپیل نامناسب قرار
ایران نے حملوں کے بعد تحمل کی اپیل مسترد کر دی، خطے میں کشیدگی بڑھی، توانائی بحران اور عالمی خدشات میں اضافہ.
ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ ایران سے تحمل اور ضبط کا مطالبہ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جس ملک پر براہِ راست حملہ کیا گیا ہو، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ خاموشی اختیار کرے یا غیر معمولی صبر کا مظاہرہ کرے، حقیقت سے دور بات ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا کہ تنازعے کی ابتدا جن ممالک کی جانب سے ہوئی ہے، دراصل ذمے داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق یکطرفہ طور پر ایران کو موردِ الزام ٹھہرانا یا اس سے نرمی کی توقع رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ مہینے کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس حملے کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ تصادم کا آغاز ہو گیا۔ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس دوران مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں جاری رہیں اور دونوں جانب بھاری نقصان کی خبریں موصول ہوتی رہیں۔
اس جاری تنازعے کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جہاں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے کئی ممالک کی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی امن و استحکام کے ساتھ ساتھ اقتصادی حالات پر بھی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔





