ایران کے اعتراض پر برطانیہ کا جواب، جنگ میں شامل نہیں
ایران کے اعتراض پر برطانیہ نے کہا امریکہ کو محدود دفاعی اجازت، جنگ میں شامل نہیں.
امریکہ کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر ایران کے شدید اعتراض کے بعد برطانیہ نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی وسیع جنگ کا حصہ نہیں بن رہا۔برطانوی حکومت کا یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپرسے رابطہ کیا۔ اس گفتگو کے دوران ایران نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے براہِ راست حملے میں شمولیت تصور کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ برطانیہ کی کسی بھی قسم کی مدد خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی کسی کارروائی سے حالات مزید خراب ہوں گے اور تنازع بڑھنے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب برطانیہ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ وہ کسی بڑی فوجی مہم کا حصہ بن رہا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ نے ابتدائی حملوں میں کوئی حصہ نہیں لیا اور نہ ہی وہ کسی وسیع جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو برطانوی فوجی اڈے محدود اور دفاعی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام ایران کی جانب سے جاری حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صرف فوری خطرے کو کم کرنا ہے، نہ کہ کسی بڑے تنازع کو ہوا دینا۔





