راہل گاندھی کے گھر کے باہر بی جے پی کا ہنگامہ
بی جے پی کارکنوں کا راہل گاندھی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج، پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔
نئی دہلی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذیلی ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے کارکنوں نے جمعرات کے روز کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حالیہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کی جانب سے کیا گیا احتجاج دراصل راہل گاندھی کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ اس سے قبل یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں انوکھے انداز میں احتجاج کرتے ہوئے ٹی شرٹس اتار کر اپنا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ اس اقدام پر بی جے پی رہنماؤں نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کے مظاہرے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فورمز پر احتجاج سے بھارت کی شبیہ متاثر ہوتی ہے۔
احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور چند مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ بی جے پی یووا مورچہ کے کارکنوں نے اس موقع پر راہل گاندھی کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا۔دوسری جانب کانگریس اور یوتھ کانگریس کے رہنماؤں نے بی جے پی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب نے اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور ان کے کارکنوں نے اسی حق کا استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
بی جے پی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس احتجاج کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ قومی مفاد کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر بیان بازی میں مزید شدت آ سکتی ہے۔





