سپریم کورٹ کی کارروائی پر بی جے پی کا ممتا حکومت پر حملہ
ای ڈی کیس میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کو نوٹس دیا، ایف آئی آرز پر روک، بی جے پی نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی۔
بھارتی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی درخواست پر مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو نوٹس جاری کیے جانے اور ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آرز پر روک لگانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں نے اس معاملے کو قانون کی بالادستی اور ریاست میں نظم و نسق سے جوڑتے ہوئے ممتا حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔بی جے پی کے ترجمان اور سینئر رہنما گورو بھاٹیہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تمام ایف آئی آرز پر روک لگا دی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی بنگال میں قانون کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں کس قسم کا ’’جنگل راج‘‘قائم ہے اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو اس پر جواب دینا چاہیے۔ گورو بھاٹیہ نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی اور سماعت سے قبل پارٹی کے لیگل سیل کی جانب سے واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے لوگوں کو عدالت پہنچنے کی ہدایت دی گئی، جس کا سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا۔ ان کے بقول، یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
بی جے پی کے ایک اور سینئر رہنما دلیپ گھوش نے بھی ممتا بنرجی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی کی کارروائی میں جس طرح رکاوٹ ڈالی گئی اور جس انداز میں فائلیں چھیننے کی بات سامنے آئی، وہ کسی بھی وزیرِ اعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اس طرح کے رویے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ممتا بنرجی کے علاوہ ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، پولیس کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی نوٹس جاری کیے۔ یہ معاملہ دراصل آٹھ جنوری کے اس واقعے سے جڑا ہے جب وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اچانک کولکاتا میں سیاسی مشاورتی کمپنی آئی پیک کے سربراہ پرتیک جین کے گھر پہنچ گئیں، جہاں اسی وقت ای ڈی کی تفتیش جاری تھی۔
اس موقع پر ممتا بنرجی نے الزام لگایا تھا کہ ای ڈی نے ہارڈ ڈسک، متعدد موبائل فونز، امیدواروں کی فہرست اور پارٹی کی اندرونی حکمتِ عملی سے متعلق دستاویزات ضبط کی ہیں، اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ یہ سب واپس لے آئی ہیں۔ تاہم ای ڈی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی دستاویز ضبط نہیں کی گئی تھی۔ اسی پس منظر میں ای ڈی نے اپنی کارروائی میں مداخلت کے الزام پر سپریم کورٹ کا رخ کیا، جس پر اب عدالت نے یہ اہم نوٹس جاری کیے ہیں۔





