بل گیٹس معاملہ، پون کھیڑا کا حکومت پر الزام
پون کھیڑا نے حکومت پر بل گیٹس معاملے میں نرم رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا، الزامات کی تردید۔
پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ حکومتِ ہند، امریکی کاروباری شخصیت بل گیٹس کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، حالانکہ ان کا نام مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس حساس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔پریس کانفرنس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں آندھرا پردیش میں ریاستی قیادت نے بل گیٹس کا خیرمقدم کیا، جبکہ دو روز قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔ پون کھیڑا کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مختلف شخصیات کو بغیر کسی وضاحت کے ’’کلین چٹ‘‘ دینے کا تاثر پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ منعقد ہونے والی مصنوعی ذہانت سمٹ میں بل گیٹس کی شرکت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم بل گیٹس کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ پروگرام میں شرکت اور خطاب کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ان افراد کے ساتھ کھڑی ہے جو ایپسٹین کے ہاتھوں متاثر ہوئے، تو اسے یہ بات کھلے عام اور دوٹوک انداز میں بیان کرنی چاہیے، محض ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے بیانات جاری کرنے کے بجائے۔واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی فائلوں میں کئی بااثر شخصیات کے ناموں کا ذکر ہوا تھا، جن میں بل گیٹس کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
دوسری جانب بل گیٹس کے ترجمان نے تمام الزامات کو بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ دعوے سراسر غلط ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔ اس معاملے پر سرکاری سطح پر اب تک کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں سوالات اور قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔





