بہار انتخاب: جن سوراج کی ناکامی، این ڈی اے کی بڑھی طاقت
جن سوراج کو محض چار فیصد ووٹ ملے؛ خوف، حکومتی اسکیموں اور پولرائزیشن نے ووٹرز کو بدل ڈالا اور این ڈی اے کو فائدہ ملا۔
بہار اسمبلی انتخابات میں ایک بھی نشست نہ جیت پانے کے باوجود سابق انتخابی strategist پرشانت کشور کی جماعت ’جن سوراج‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کئی ممکنہ ووٹر آخر وقت میں این ڈی اے کے ساتھ چلے گئے۔ پارٹی کے مطابق ووٹرز کو اندیشہ تھا کہ اگر آر جے ڈی کی حکومت بنی تو ریاست میں ایک بار پھر بدامنی اور قانون و نظم کی بگڑتی صورتحال یعنی مبینہ جنگل راج واپس آ جائے گا۔ اسی خوف نے اُن لوگوں کو بھی این ڈی اے کی طرف دھکیل دیا جو ابتدا میں جن سوراج کو موقع دینے کے حق میں تھے۔پارٹی کے قومی صدر اُدے سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک ہوئے دھماکے کے بعد سیمانچل خطے میں ووٹنگ کا ماحول تبدیل ہو گیا اور وہاں واضح طور پر پولرائزیشن دیکھنے کو ملا۔ اُن کے مطابق یہ تاثر خاص طور پر آر جے ڈی کے حوالے سے تھا، جبکہ کانگریس یا مہاگٹھ بندھن کے دیگر اتحادیوں سے لوگوں کو کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ووٹروں نے بھی اس انتخاب میں جن سوراج پر مکمل اعتماد ظاہر نہیں کیا، لیکن مستقبل میں ان کے ساتھ بہتر رابطہ قائم ہونے کی امید ہے۔
جن سوراج نے اپنی انتخابی مہم میں بے روزگاری، مسلسل نقل مکانی اور صنعتوں کی کمی جیسے عوامی مسائل کو نمایاں انداز میں اٹھایا، جس کی وجہ سے خاص طور پر اعلیٰ ذات کے نوجوانوں میں پارٹی کی ایک پہچان بنی۔ تاہم یہ حمایت بیلٹ باکس تک منتقل نہ ہو سکی اور پارٹی کو محض چار فیصد ووٹ ملے۔ اُدے سنگھ نے الزام لگایا کہ انتخاب سے قبل وزیراعلیٰ نتیش کمار کی حکومت نے بڑے پیمانے پر فلاحی اسکیموں اور مالی مراعات کا اعلان کیا، جن پر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ ان کے مطابق خاتون روزگار اسکیم کے تحت خواتین کے کھاتوں میں مسلسل رقم بھیجی گئی، جس نے بڑی تعداد میں خواتین ووٹرز کو متاثر کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ حکومت باقی ماندہ دو لاکھ روپے کب اور کس طرح منتقل کرے گی۔
اگرچہ این ڈی اے نے ریاست میں شاندار کامیابی حاصل کی، پھر بھی اُدے سنگھ کا خیال ہے کہ مؤثر اپوزیشن کے لیے جگہ باقی ہے، کیونکہ این ڈی اے کا مجموعی ووٹ شیئر پچاس فیصد سے کم رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن سوراج کی طرف سے بڑھاپا پنشن میں اضافے کے وعدے کے بعد حکومت کو بھی یہ رقم بڑھانا پڑی۔انتخابات میں بی جے پی اور جے ڈی(یو) دونوں نے 101-101 نشستوں پر تقریباً 85 فیصد کی شاندار کامیابی حاصل کی اور این ڈی اے نے دو سو سے زائد سیٹیں جیت کر ایوان میں تین چوتھائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی اس بار سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور حکومت نے با آسانی اپنی گرفت مضبوط کر لی۔





