مہاراشٹر انتخابات میں بی جے پی قیادت والے مہایوتی اتحادکی بڑی کامیابی
مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات میں مہایوتی اتحاد کو کامیابی، بی جے پی نے بی ایم سی میں اکثریت حاصل کر لی۔
مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے مہایوتی اتحاد نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات کو ریاست کی سیاست کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا تھا، کیونکہ اس کے ذریعے شہری سطح پر عوامی رجحانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔سب سے زیادہ توجہ ممبئی کی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے نتائج پر مرکوز رہی، جہاں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے متحدہ شیو سینا کا غلبہ قائم تھا۔ اس بار بی جے پی نے اس طویل سیاسی بالادستی کو ختم کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بی ایم سی کے تمام 227 وارڈوں کے نتائج جمعہ کی نصف شب کے بعد اعلان کیے گئے۔
227 رکنی بی ایم سی میں واضح اکثریت کے لیے 114 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جبکہ مہایوتی اتحاد نے مجموعی طور پر 118 سیٹیں جیت کر اکثریت ثابت کر دی۔ ان میں سب سے بڑا حصہ بی جے پی کا رہا، جس نے اکیلے 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس کے اتحادی شیو سینا (شندے گروپ) نے 29 سیٹیں اپنے نام کیں، جس سے اتحاد کو مضبوط برتری حاصل ہوئی۔دوسری جانب ممبئی میں ٹھاکرے برادران کی جماعتوں، شیو سینا (یو بی ٹی) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس)، نے مل کر انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی۔ نتائج کے مطابق شیو سینا (یو بی ٹی) کو 65 نشستیں ملیں، جبکہ ایم این ایس صرف چھ سیٹیں حاصل کر سکی۔
کانگریس نے اس بار بی ایم سی انتخابات میں پرکاش امبیڈکر کی ونجت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ تاہم یہ اتحاد خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ کانگریس کے حصے میں 24 نشستیں آئیں، جبکہ ونجت بہوجن اگھاڑی ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے آٹھ نشستیں حاصل کیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کو تین، سماجوادی پارٹی کو دو نشستیں ملیں، جبکہ این سی پی (شرد پوار گروپ) صرف ایک نشست پر کامیاب ہو سکی۔ان نتائج کے بعد مہاراشٹر کی شہری سیاست میں ایک نئی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے، جہاں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو آئندہ حکمتِ عملی پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔





