بنگلورو یونیورسٹی تنازعہ، سوشل میڈیا پوسٹ پر نئی شکایت
بنگلورو میں یونیورسٹی تنازعے پر سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں پولیس نے نئی شکایت درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
بنگلورو میں واقع عظیم پریم جی یونیورسٹی ایک تازہ تنازعے کے باعث خبروں میں ہے۔ بنگلورو رورل پولیس نے اس معاملے میں ایک دوسری شکایت درج کی ہے، جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ پوسٹ یونیورسٹی کے نام سے منسلک ایک غیر مصدقہ اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تھی۔اطلاعات کے مطابق منگل کی شام تقریباً 20 سے 25 افراد، جو خود کو اے بی وی پی سے وابستہ بتا رہے تھے، سرجاپور میں قائم یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان افراد نے مرکزی بورڈ پر سیاہ رنگ پھیر دیا اور بعض مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا، تاہم عدالت کے حکم پر اگلے دن انہیں رہا کر دیا گیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ تنظیم کے ارکان ایک مجوزہ مباحثے کی مخالفت کر رہے تھے، جس کا عنوان کونن پوشپورہ بتایا گیا۔ یہ عنوان جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دیہات کونن اور پوشپورہ میں پیش آئے ایک متنازع واقعے سے جڑا ہوا ہے، جس میں سیکیورٹی فورسز پر خواتین کے ساتھ زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اے بی وی پی کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی گفتگو ملک دشمن بیانیے کو تقویت دیتی ہے اور سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کی شبیہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تنظیم نے اس حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھ کر مذکورہ پروگرام کی مذمت کی اور منتظم گروپ پر پابندی کا مطالبہ کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی وہ منعقد ہوا۔ ترجمان کے مطابق بیرونی افراد کو غلط فہمی کا شکار بنایا گیا، اور یہ غلط معلومات ایک غیر سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے پھیلائی گئیں۔ انتظامیہ نے پولیس سے باضابطہ تحقیقات اور مناسب قانونی کارروائی کی درخواست کی ہے۔بنگلورو رورل پولیس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ دوسری شکایت آئی ٹی ایکٹ کے تحت درج کی گئی ہے اور معاملے کی باریک بینی سے جانچ جاری ہے۔ حکام کے مطابق یونیورسٹی کے نام کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد کی اشاعت کے پہلوؤں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔





