بنگال انتخابات: بی جے پی اورٹی ایم سی حامیوں کے درمیان تصادم
مغربی بنگال الیکشن تشہیر میں جنوبی 24 پرگنہ میں بی جے پی اور ٹی ایم سی حامیوں میں جھڑپیں، پولیس اہلکار زخمی، آٹھ گرفتار۔
غربی بنگال پرچار اسمبلی انتخابات 2026 کے دوران ریاست کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ سے کشیدگی کی ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یہ واقعہ کلکتہ کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب بسنتی بازار کے علاقے میں انتخابی مہم جاری تھی۔ بی جے پی کے امیدوار وکاس سردار اپنے حامیوں کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے تھے کہ اسی دوران ٹی ایم سی کے کارکنان بھی وہاں موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بات پر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق، کچھ افراد لاٹھیاں لے کر ایک دوسرے کا پیچھا کرتے نظر آئے، جس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ گئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے مداخلت کر کے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی، تاہم مشتعل ہجوم نے بعض پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس جھڑپ میں ایک سب انسپکٹر سوربھ گُہا زخمی ہو گئے جن کے سر پر چوٹ آئی اور انہیں طبی امداد فراہم کرنی پڑی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد اس واقعے میں ملوث آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جب کہ مزید افراد کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب دونوں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان پر بلا اشتعال حملہ کیا گیا، جب کہ ٹی ایم سی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر کشیدگی پیدا کی۔انتخابی حکام نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکام کے مطابق فی الحال صورتحال قابو میں ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جا سکے۔





