بارامتی طیارہ حادثہ، سازش کے شبہات نے بحث چھیڑی
بارامتی طیارہ حادثے میں اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک، اہلِ خانہ اور روہت پوار نے سازش کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
بارامتی میں 28 جنوری کو پیش آنے والے طیارہ حادثے نے ملک بھر میں گہرے صدمے کی لہر دوڑا دی تھی۔ اس سانحے میں مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار سمیت کیپٹن سمیت کپور، کیپٹن شامبھوی پاٹھک، سیکیورٹی گارڈ وِدیپ جادھو اور فلائٹ اٹینڈنٹ پنکی مالی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ حادثے کے بعد سے اس واقعے کی وجوہات پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اب اس معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔حال ہی میں فلائٹ اٹینڈنٹ پنکی مالی کے والد شیوکمار مالی نے بھی اس حادثے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روہت دادا پوار کی جانب سے پیش کی گئی معلومات اور نکات سننے کے بعد ان کے ذہن میں بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن سے وہ اتفاق کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اصل حقیقت منظرِ عام پر آئے۔
شیوکمار مالی نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ واقعہ محض ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما تھی۔ ان کے مطابق اگر اس میں کسی سازش کا پہلو موجود ہے تو اس کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات ہونی چاہئیں، چاہے وہ مرکزی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے ہوں، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے یا عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سازش کے امکانات کی جانچ حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ محض فنی خرابی یا حادثہ تھا تو بھی یہ واضح ہونا چاہیے کہ پرواز میں کون سی تکنیکی کمی یا خرابی موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب ریاست کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہنما کی جان گئی تو دوسری طرف انہوں نے اپنی بیٹی کو کھو دیا، اس لیے پورا ملک جاننا چاہتا ہے کہ اصل میں پیش کیا آیا تھا۔
دوسری جانب اجیت پوار کے بھتیجے اور رکنِ اسمبلی روہت پوار نے بھی اس حادثے میں ممکنہ سازش کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ممبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مختلف ذرائع سے معلومات جمع کرنے کے بعد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ روہت پوار نے ایئرلائن کمپنی وی ایس آر، بکنگ سے وابستہ کمپنی ایرو اور پائلٹ سمیت کپور کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جس کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور عوامی بحث میں تیزی آ گئی ہے۔





