وزیر اعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر بنگلہ دیش سوگوار
سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر محمد یونس نے گہرے رنج کا اظہار کیا، جمہوری خدمات کو خراج۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم اور تاریخی باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ ملک کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں منگل کے روز انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال پر بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر میں سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات محمد یونس نے بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالدہ ضیا کے انتقال سے ملک ایک عظیم رہنما اور سرپرست سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان نہ صرف ایک سیاسی جماعت بلکہ پوری قوم کے لیے ہے۔

محمد یونس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بیگم خالدہ ضیا محض کسی سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں، بلکہ وہ بنگلہ دیش کی تاریخ کے ایک نہایت اہم دور اور جدوجہد کی علامت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خالدہ ضیا نے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، کثیر الجماعتی سیاسی نظام کے استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد کی۔چیف ایڈوائزر نے یہ بھی بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز میں حکومت نے بیگم خالدہ ضیا کی خدمات، ان کی سیاسی قربانیوں اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ملک کی “ویری امپورٹنٹ پرسن” (VIP) قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ ان کی قومی خدمات کے اعتراف کے طور پر کیا گیا تھا۔
محمد یونس کے مطابق خالدہ ضیا کا نام ہمیشہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی اور عوامی آواز کو مضبوط بنانے کی جدوجہد کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کا سیاسی سفر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کی خبر سب سے پہلے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے میڈیا سیل نے فیس بک کے ذریعے عوام تک پہنچائی۔ ان کے انتقال پر سیاسی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور عوام کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ملک ایک تجربہ کار اور بااثر رہنما کی جدائی پر سوگوار ہے۔





