سائنسی دنیا

مصنوعی ذہانت رحمت بھی زحمت بھی

پی چدمبرم

(مضمون نگار: سابق مرکزی وزیرداخلہ و فیناس)

ساری دنیا میں مصنوعی ذہانت یا Artificial Intelligence کے چرچے ہیں اور مصنوعی ذہانت نے زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ ویسے بھی فی الوقت کسی بھی ملک کی طاقت، اس کے استحکام، اس کی ترقی اور خوشحالی کو مصنوعی ذہانت کے پیمانہ پر جانچا جارہا ہے جو ملک مصنوعی ذہانت میں جتنا آگے ہوگا اتنی ہی عالمی سطح پر اس کی اہمیت زیادہ ہوگی۔ جہاں تک مصنوعی ذہانت کا سوال ہے یہ حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیتوں اور Productivity کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے اور بڑھ بھی چکی ہے۔ اگر ہم ہندوستان میں انسانی وسائل کا جائزہ لیتے ہیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے پاس انسانی وسائل کی ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی دولت ہے (کم از کم سال 2050 تک) لیکن اس کا معیار وہ نہیں جو ہونا چاہئے تھا۔ ترقی یافتہ ملک میں تقریباً ہر شخص تعلیم یافتہ ہوتا ہے اور ایک بڑی تعداد کالجوں کی تعلیم یافتہ ہوتی کالجس میں زندگی بھر سیکھنے اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان میں آبادی بڑی تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ آبادی جہاں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے وہیں اپنے ساتھ بوجھ بھی لاتی ہے۔ اگرچہ پرائمری سطح پر اسکولوں میں داخلہ بہت زیادہ ہیں لیکن ہر مرحلہ پر یعنی اپر پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطحوں پر داخلوں میں کمی آتی جاتی ہے اور یہ رجحان ہمارے ملک میں بڑی تیزی کے ساتھ فروغ پارہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں داخلوں کی مجموعی شرح (GER) 40 اور 50 فیصد کے درمیان ہے۔ طلبہ کی ایک کثیر تعداد گرائجویشن کی تکمیل تو کرلیتی ہے ڈگری حاصل کرلیتی ہیں لیکن ڈگریوں سے وہ ہنرمند نہیں بنتے یا ڈگریاں انہیں روزگار کے قابل نہیں بناتی۔ یہی اصل وجہ ہے کہ نوجوان مرد و خواتین کیلئے موزوں و مناسب ملازمت حاصل کرنا ایک مشکل کام بن گیا ہے۔
ایف، یعنی فیوچر (مستقبل) اور فیئر (خوف) بھی: راقم الحروف نے انتھرویک کے سی ای او مسٹر ڈاریو اموڈیز کے 38 صفحات پر مشتمل مضمون دی ایڈوانس آف ٹکنالوجی کا خلاصہ پڑھا ہے جو معاشی خلل پر انہوں نے قلمبند کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹلیجنس AI ایسی تیزی کے ساتھ لیبر مارکٹ میں خلل پیدا کرسکتی ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی اور اس کا اثر زندگی کے ہر شعبہ پر مرتب ہوگا۔ معاشی خلل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اے آئی مختلف پیشہ وارانہ شعبوں میں لیبر مارکٹ کو متاثر کرسکتی ہے اور قریبی مدت میں خاص طور پر وائٹ کالر ملازمتوں کے ایک بڑے حصہ کو ختم کرسکتی ہے جو یقینا ایک تشویشناک امر ہے۔ ہندوستان میں ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ اے آئی ذات یا کاسٹ کو پہچانتی ہے۔ مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے مطابق وائیٹ کالر ملازمتوں کے کئی کام خودکار Automated ہوجائیں گے۔ کمپنی نے 2025ء میں ہزاروں ملازمین کو نکال دیا یعنی ہزاروں ملازمتیں ختم کردی گئیں۔ ٹاٹا کنسلٹینسی سرویسز نے 2025ء میں اعلان کیا کہ وہ تنظیم نو کے عمل کے تحت 12 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرے گی۔ مسٹر ونود کھوسلہ نے پیش قیاسی کی کہ اگلے 5 برسوں میں AI آئی ٹی خدمات کو ختم کرسکتی ہے اور بی پی او کمپنیاں منظرعام سے غائب ہوسکتی ہیں۔ ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ اگر دیکھا جائے تو نوجوانوں میں روزگار کی کمی ہے۔ مثال کے طور پر ملک میں موجودہ ’’سرکاری‘‘ بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اصل شرح زیادہ ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 15 فیصد ہے تقریباً 55 فیصد ’’ملازمتوں کے حامل‘‘ افراد خودروزگار یا عارضی مزدوری میں مصروف ہیں۔ خوشحال علاقوں میں زرعی شعبہ کے کام پہلے ہی مشینوں کے ذریعہ انجام پانے لگے ہیں۔ دیہی خاندان اکثر اس بہانے بیروزگاری کو چھپاتے ہیں کہ نوجوان مرد یا عورت خودروزگار یا Self Employed ہے اگر شہری علاقوں میں Blue Cooller ملازمتیں (کمتر درجہ کی ملازمتیں) بھی کم ہوجائیں اور بیروزگاری تعلیم یافتہ نوجوانوں تک خاص طور پر آئی ٹی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی مصنوعات و خدمات کے شعبوں میں پھیل جائے تو صورتحال دھماکو ہوسکتی ہے۔ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان اور دنیا کے دوسرے ممالک اس صورتحال بلکہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے آیا تیار ہیں اور اگر تیار ہیں تو کتنے تیار ہیں۔ یہ ہندوستان ہی نہیں ساری دنیا کے لئے ایک چیلنج ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے میں سمجھتا ہوں ہندوستان کے بشمول دنیا کے دوسرے ملک ابھی اس چیلنج کا حل کے ساتھ مقابلہ کرنے تیار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ حل مختلف ہوں گے۔ ان کا حل ہے کہ مسلسل اور مؤثر عمل درآمد ہندوستان کو پہلا بڑا معاشرہ بناسکتا ہے جو ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑے پیمانہ پر روزگار سے ہم آہنگ کرے۔ کاش حل اتنا سادہ ہوتا ہے۔
مشکل اقدامات : جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں آپ کو بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا فروغ اس کا استعمال ملازمتوں کی کمی یا ملازمتوں کے خاتمہ کی شکل میں برآمد ہورہا ہے چنانچہ ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے کے ابتدائی نتائج ملازمتوں کی برخواستگی یا ان میں کمی کی صورت میں برآمد ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر روزگار کے متلاشی افراد اور ملازمتوں کی تعداد دیکھتے ہوئے ہندوستان کو پوری طرح تیار رہنا ہوگا۔ ٭ اُس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ہندوستان کو ان نوجوانوں کے لئے مختلف قسم کی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی جو اپر پرائمری، سیکنڈری یا ہائر سیکنڈری سطح پر تعلیم ترک کرسکتے ہیں۔٭ ہائر سیکنڈری سطح پر طلبہ کو ان کی صلاحیت اور میرٹ کی بنیاد پر تعلیمی اور غیر تعلیمی شعبوں میں تقسیم کرنے کے لئے۔٭ غیر سائنسی مضامین کے لئے بے شمار پاس کورسیز کو بند کرنے اور طلبہ کو پوسٹ گرائجویٹ تعلیم STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میاتھس) یا مہارت سکھانے والے کورسیس کی طرف راغب کرنے کے لئے۔ ٭ مقامی اور علاقائی بازاروں کو ترقی دینے کے لئے جو معیاری اشیاء اور خدمات پیدا اور استعمال کریں جنھیں مقامی یا علاقائی بینکوں کی حمایت حاصل ہو اور جو صرف بڑے کاروبار، بڑے بازاروں، بڑی بڑی تجارتی Chains اور بڑی بینکوں کے جنون میں مبتلا نہ ہوں۔ ٭ یہ تسلیم کرنے کے لئے کہ موجودہ دور میں ایم ایس ایم ایز (چھوٹے چلر اور اوسط درجہ کے کاروبار) ہندوستان میں سب سے بڑے روزگار فراہم کرنے والے ہیں، اگر مصنوعی ذہانت ایم ایس ایم ایز کی مدد کرسکے جیسا کہ وزیر آئی ٹی نے وعدہ کیا ہے تو ایم ایس ایم ایز مزید ملازمتیں پیدا کرسکیں گے۔
ہمارے ملک کے چیف اکنامک اڈوائزر نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ہندوستان کو ہر سال کم ازکم 80 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گی جبکہ درکار تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ ان اداروں کو پابند کرنے کے لئے جو AI اختیار کریں گے اور نتیجہ میں ملازمتیں ختم کریں گے۔ ایک بات ضرور ہے کہ ایسی دنیا جہاں ملازمتیں یا نوکریاں نہ ہوں یا پھر بہت کم ہوں ایک خوفناک مستقبل کی تصویر پیش کرے گی۔ ویسے بھی ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ کام ہی انسان کی پہچان ہے کیوں کہ کوئی دوسرا جاندار رضاکارانہ طور پر کام نہیں کرتا۔ ہاں ہر جاندار خوراک یا غذا کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر مصنوعی ذہانت ہمارا سارا کام کرے اور سب کے لئے خوشحالی کے دروازے کھول دے تو انسان کیا کریں گے؟ آنے والے چند برسوں میں جب AI کے اثرات واضح ہوں گے ایسے میں مذکورہ سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سائنسی دنیا

مذہبی تناظر میں جدید انفارمشن  ٹکنا لوجی کا استعمال

ابن العائشہ صدیقی علی گڑھ مذہب اسلام اپنی آفاقی تعلیمات کے ذریعے ہر زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی
سائنسی دنیا

ماحولیاتی مسائل، عوام اور سرکار

غلام علی اخضر موجودہ وقت میں ماحولیاتی مسائل کسی وبا سے کم نہیں ہیں۔ پوری دنیا اس سے نبرد آزمائی