ایران میں حکومت مخالف احتجاج بارہویں دن میں داخل، حالات کشیدہ
ایران میں بارہ دن سے حکومت مخالف مظاہرے جاری، درجنوں ہلاک، ہزاروں گرفتار، انٹرنیٹ بند، عالمی ردعمل تیز ہونے لگا۔
ایران میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج مسلسل بارہویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ مظاہرے صرف دارالحکومت تہران تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک کے کئی بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھی پھیل چکے ہیں۔ سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین حکومتی پالیسیوں، معاشی بدحالی اور سیاسی پابندیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے ہیں، جس کے باعث ملک کی داخلی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔امریکہ میں قائم ایک انسانی حقوق کی خبر رساں تنظیم کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 34 عام مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ چار سکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جن پر احتجاج میں شرکت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
ایک آزاد مانیٹرنگ گروپ کے مطابق حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنا شروع کر دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انٹرنیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران تہران سمیت کئی علاقوں میں ڈیجیٹل بلیک آؤٹ دیکھنے میں آیا اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی شدید متاثر رہی۔ادھر ایران کے سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے بھی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں ایرانی شہری اپنی آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں، لیکن حکومت نے اس کے جواب میں عوام کے رابطے کے تمام ذرائع بند کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، لینڈ لائن فون بند کیے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
رضا پہلوی نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ایرانی عوام کی آواز سنے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کو جواب دہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی رہنما اور دیگر عالمی طاقتیں بھی خاموشی توڑیں اور زیادہ مؤثر انداز میں ایرانی عوام کی حمایت کریں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں جاری یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سکیورٹی اقدامات کے باوجود عوامی غصہ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جس سے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





