غزہ میں امن فوج کی جلد تعیناتی کا اعلان، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں استحکام کے لیے جلد بین الاقوامی امن فوج تعینات کی جائے گی، منصوبہ عرب و عالمی شراکت داروں کے تعاون سے تیار ہو رہا ہے۔
ملائیشیا کے دورے پر روانہ تھے اور ان کا طیارہ ایندھن کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رکا۔ اس موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ایئر فورس ون پر امریکی صدر سے ملاقات کی، جس میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ متعدد ممالک نے غزہ میں مجوزہ امن فورس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔ ان کے مطابق، امن فوج کی تشکیل کے حوالے سے گفت و شنید جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے جلد از جلد تعینات کیا جا سکے۔ روبیو نے تسلیم کیا کہ حماس کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر ایسی فورس کی تعیناتی ایک چیلنج ہوگی، تاہم عالمی اتفاقِ رائے کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
غزہ میں امن و امان کی بحالی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی ’’غزہ امن منصوبے‘‘کا اہم جزو ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ اپنے عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) قائم کرے گا جو فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کو تربیت اور سہولت فراہم کرے گی۔ یہ فورس غزہ میں نظم و نسق کی بحالی، سرحدوں کی حفاظت اور طویل مدتی داخلی سلامتی کے قیام میں کردار ادا کرے گی۔





