امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم، حکومت دوبارہ فعال
امریکی صدر ٹرمپ نے بل پر دستخط کر کے 43 روزہ شٹ ڈاؤن ختم کیا، حکومت اور خدمات دوبارہ بحال ہو گئیں۔
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی تاریخ کے سب سے طویل سرکاری شٹ ڈاؤن (حکومتی بندش) کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم بل پر دستخط کر دیے، جس کے بعد وفاقی حکومت کے دفاتر دوبارہ کام شروع کر سکیں گے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی 43 دن سے جاری حکومتی تعطل ختم ہو گیا ہے۔یہ بل پہلے ہاؤس آف ری پریزنٹیٹیوز میں پیش کیا گیا، جہاں اسے 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے منظوری ملی، جب کہ اس سے دو دن قبل اسے سینیٹ میں بھی معمولی اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔ صدر کے دستخط کے بعد اب یہ بل قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب حکومت ’’اپنے معمول کے کام‘‘ دوبارہ شروع کرے گی۔ ان کے مطابق، ’’43 دن طویل اس شٹ ڈاؤن نے لاکھوں شہریوں اور سرکاری ملازمین کو بری طرح متاثر کیا۔‘‘ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کے دوبارہ فعال ہونے سے عوام کو ریلیف ملے گا۔
یہ شٹ ڈاؤن اکتوبر سے جاری تھا جس کے دوران امریکہ میں متعدد وفاقی محکمے بند رہے۔ تقریباً 14 لاکھ سرکاری ملازمین یا تو بلا تنخواہ گھروں میں بیٹھنے پر مجبور تھے یا بغیر اجرت کے کام کر رہے تھے۔ اس دوران خوراک کی فراہمی کے کئی سرکاری پروگرام بھی بند ہو گئے، جب کہ ہوائی پروازوں میں تاخیر اور مشکلات نے ملک بھر میں سفر کو متاثر کیا۔امریکی حکام کے مطابق، اب جب کہ شٹ ڈاؤن ختم ہو چکا ہے، وفاقی خدمات بتدریج بحال کی جا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام بھی معمول پر آجائے گا۔فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کو عملے کی شدید کمی کے باعث دورانِ شٹ ڈاؤن کئی پروازوں میں کمی کرنا پڑی تھی۔ حکام نے بتایا کہ جیسے جیسے عملہ واپس ڈیوٹی پر آ رہا ہے، ہوائی سفر کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا سب سے طویل تعطل ثابت ہوا، جس نے نہ صرف معیشت پر دباؤ ڈالا بلکہ عوام کے روزمرہ معمولات کو بھی شدید متاثر کیا۔ اس بحران کے اختتام کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ حکومت مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’’ہم سب کا مقصد امریکی عوام کی خدمت ہے، اور اب وقت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ملک کو دوبارہ کام کی راہ پر ڈالیں۔‘‘





