خبرنامہ

امریکہ کا تاریخ ساز طویل شٹ ڈاؤن، معیشت شدید بحران کا شکار

امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کے سنگین اثرات سے گزر رہا ہے۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والا یہ تعطل اب 38ویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور سیاسی سطح پر اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ وفاقی فنڈنگ کے معاملے پر کانگریس میں اختلافات کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً سات لاکھ ملازمین بغیر تنخواہ کے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جب کہ چھ لاکھ ستر ہزار سے زائد کو عارضی طور پر فارغ کیا جا چکا ہے۔ نتیجتاً ملک بھر میں بنیادی خدمات میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
1976ء میں جدید وفاقی بجٹ نظام کے نفاذ کے بعد سے اب تک امریکہ میں بیس مرتبہ فنڈنگ میں تعطل آیا ہے، مگر زیادہ تر واقعات چند دنوں تک محدود رہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں صرف تین بار ایسا ہوا کہ شٹ ڈاؤن دو ہفتوں سے زیادہ جاری رہا۔ موجودہ صورت حال اپنی طوالت اور اثرات دونوں لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہے، لیکن فیلی بسٹر کی شرط نے ان کے لیے فنڈنگ بل کی منظوری کو ناممکن بنا دیا ہے۔ فیلی بسٹر ایک ایسا پارلیمانی طریقہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی سینیٹر لمبی تقاریر یا طریقہ کار کی رکاوٹوں کے ذریعے کسی بل پر کارروائی روک سکتا ہے۔ اب یہ اقلیتی جماعتوں کے لیے ایک مضبوط حربہ بن چکا ہے، کیونکہ کسی بھی بل پر بحث ختم کرنے کے لیے ساٹھ ووٹوں کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ ڈیموکریٹس اس حربے کو افورڈایبل کیئر ایکٹ کی سبسڈیز برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو سال کے اختتام پر ختم ہو رہی ہیں، جبکہ ریپبلکنز کا موقف ہے کہ وہ اس معاملے پر تبھی بات کریں گے جب حکومت دوبارہ کھل جائے۔ نتیجتاً سیاسی نظام مکمل تعطل کا شکار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور برطرفیوں کے نتیجے میں امریکی معیشت کو روزانہ تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس سے مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد یعنی تقریباً سات ارب ڈالر متاثر ہو چکا ہے۔ سرکاری اداروں میں تعطل کے باعث ایئر ٹریفک کنٹرولرز، سرحدی محافظین اور ہوائی اڈوں کے سیکیورٹی افسران سمیت لاکھوں ملازمین بغیر معاوضہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یکم نومبر کو صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب بیالیس ملین امریکی شہریوں کو فوڈ اسٹامپ پروگرام یعنی سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (SNAP) کے فوائد سے محروم کر دیا گیا۔ پچیس ریاستوں نے عدالت سے رجوع کر کے زراعت کے محکمے کو فنڈز جاری کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، مگر سپریم کورٹ کے ایک عبوری حکم کے بعد انتظامیہ کو ان ادائیگیوں کو عارضی طور پر روکنے کی اجازت دے دی گئی۔
زراعت کے محکمے کے پاس پانچ ارب ڈالر کا ہنگامی فنڈ موجود ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر وہ اسے استعمال کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اگر یہ شٹ ڈاؤن چار ہفتے تک جاری رہا تو معیشت میں ایک فیصد کمی واقع ہوگی، اور اگر یہ آٹھ ہفتے تک بڑھ گیا تو مجموعی قومی پیداوار میں دو فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی اس نقصان کا مکمل ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔ سی بی او کے اندازے کے مطابق چار ہفتوں کے شٹ ڈاؤن سے معیشت کو سات ارب ڈالر جبکہ آٹھ ہفتوں کے تسلسل سے چودہ ارب ڈالر کا مستقل نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایک نجی عطیہ، جو مبینہ طور پر ارب پتی تاجر ٹموتھی میلن کی جانب سے دیا گیا ہے، کے ذریعے فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم عام امریکی شہریوں کے لیے یہ بحران بدستور معاشی دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت کو گہرا کر رہا ہے، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر