امریکہ لاطینی امریکہ پر کنٹرول کے لیے تیار اور پرعزم
امریکہ لاطینی امریکہ اور کیریبین پر کنٹرول چاہتا ہے، وسائل، زراعت، لیتیئم اور توانائی کی اہمیت کی بنیاد پر۔
دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے امریکی عزائم لاطینی امریکہ اور کیریبین سے بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ہر ملک ان کے سامنے جھکے اور ان کی شرائط کو قبول کرے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہےاور یہ خواہش حالیہ برسوں میں واضح ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پرامریکہ نے وینیزویلا کے صدر کے خلاف کارروائی کی اور انہیں اپنے ملک سے باہر لے جانے کی کوشش کی۔ اسی طرح امریکہ نے کیوبا کو دباؤ ڈالنے اور مذاکرات پر مجبور کرنے کی دھمکی دی اور پانامہ نہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی بات کی۔اس سوال کا جواب کہ امریکہ اس خطے پر کنٹرول کیوں چاہتا ہے، معاشی اور قدرتی وسائل میں مضمر ہے۔ اگرچہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کی عالمی مجموعی پیداوار (GDP) میں حصہ مسلسل کم ہو رہا ہے، مگر یہ خطہ قدرتی وسائل، زرخیز زمین اور پانی کے وسائل سے مالا مال ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، اس خطے کا تقریباً نصف حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے اور یہ عالمی جنگلات کا 23 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ خطے میں دنیا کی 11 فیصد زرخیز زراعتی زمین بھی موجود ہے۔
مزید برآں شمال مغربی ارجنٹینا، چلی اور میکسیکو میں وسیع صحرائی علاقے ہیں جہاں سورج کی روشنی بہت زیادہ ملتی ہے، اور شمالی کولمبیا اور پیٹاگونیا میں زبردست پون واپنی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ خطہ کم کاربن توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے کشش رکھتا ہے، جبکہ زرخیز زمین امریکی اقتصادی مفادات کے لیے بھی اہم ہے۔اس کے علاوہ ٹرمپ اور امریکہ کی نظر اس خطے کے قیمتی معدنی وسائل، خاص طور پر ریئر ارتھ ایلیمنٹس اور لیتھیئم پر بھی ہے۔ خطے میں دنیا کے مجموعی لیتھیئم ذخائر کا تقریباً 47 فیصد موجود ہے، جو بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اس خطے میں تانبے کے ذخائر کا 36 فیصد موجود ہے، اور 2050 تک تانبے کی عالمی طلب میں سالانہ 1.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
عالمی بینک کے مطابق لاطینی امریکہ اور کیریبین کا یہ خطہ ہر نوع کی سبز اور کم کاربن معیشت کے لیے موزوں ہے، اور اس کی زمین اور وسائل کا بہتر استعمال عالمی اقتصادی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، خطے میں زمین کا مؤثر استعمال ابھی تک نہیں ہو پا رہا، جو امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔





