اکھلیش یادو نے شنکر آچاریہ تنازع پر حکومت تنقید کی
اکھلیش یادو نے شنکر آچاریہ توہین تنازع پر بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی، سوامی نے دھرنا دیا۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے شری شنکر آچاریہ کے ساتھ جاری تنازع پر بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا، ’آپ ان لوگوں سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ یہ لوگ شری شنکر آچاریہ کا کھلے عام توہین کر رہے ہیں۔‘اُنہوں نے سوال کیا کہ کیا اب اس معاملے کے لیے نیا قانون بنایا جائے گا؟ اکھلیش یادو نے کہا کہ سب کے سامنے واضح ہے کہ شری شنکر آچاریہ کو عوامی سطح پر بے عزت کیا جا رہا ہےاور کیا کسی کی یہ جرات ہے کہ وہ اُن کے خلاف کچھ کہہ سکے؟
گذشتہ جمعہ کو یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاستی اسمبلی میں کہا تھا کہ ’ہر کوئی شری شنکر آچاریہ نہیں بن سکتا‘ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص کسی پیٹھ کے آچاریہ کے طور پر ماحول خراب نہیں کر سکتا۔اس پر اُترکھنڈ کے جوترمٹھ کے سربراہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’نمونہ یہ ہے کہ آدتیہ ناتھ کے خلاف 40 سے زائد مقدمات تھے اور جب وہ وزیر اعلیٰ بنے تو تمام مقدمات ختم کرا دیے گئے۔ یہ کس قسم کی قانون کی پابندی ہے؟ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ کوئی بڑا عہدہ حاصل کرے تو اس کے تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں؟‘
گزشتہ ماہ ریاستی حکومت اور سوامی اویمکتیشورانند کے درمیان تنازع کافی بڑھ گیا تھا۔ پر یاگ راج میں جاری ماغ میلے کے سلسلے میں 28 جنوری کو آچاریا نے اعلان کیا کہ وہ اس میلے میں شرکت نہیں کریں گے اور انہیں ‘افسردہ دل کے ساتھ میلے سے جانا پڑ رہا ہے۔’اصل میں، 18 جنوری کو ماغی امواسمیا کے موقع پر سوامی اویمکتیشورانند سنگم میں غسل کرنے جا رہے تھے، لیکن ریاستی پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس کے بعد وہ دھرنے پر بیٹھ گئے اور مطالبہ کیا کہ صرف ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے، تب ہی وہ غسل کریں گے۔یہ تنازع ریاستی حکومت اور مذہبی پیشوا کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سیاسی اور مذہبی حلقے اس معاملے کو شری شنکر آچاریہ کی عزت اور حکومت کی قانونی حکمرانی کے درمیان ٹکراؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ عوام میں بھی اس مسئلے پر بحث جاری ہے اور ہر طرف مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔





