تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد فضائی حملے
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد فضائی حملے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا۔
تھائی لینڈ کی شاہی فوج نے اعلان کیا ہے کہ کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد اس نے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ سرحدی علاقے میں کیے جا رہے ہیں، جہاں پہلے بھی کشیدگی کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔تھائی فوج کے مطابق، پیر کی صبح اس کے فوجی دستوں پر کمبوڈیا کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم بعد میں فوجی حکام نے ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد میں رد و بدل کی اطلاع دی۔ تھائی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی جان کی بازی ہار گیا جبکہ آٹھ دیگر فوجی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب کمبوڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ کا آغاز تھائی لینڈ نے کیا اور اس نے محض اپنا دفاع کیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی اور فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ جھڑپیں گزشتہ کئی برسوں سے متنازعہ رہنے والے سرحدی علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں زمین اور جغرافیائی حدود پر اختلافات موجود ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ملائیشیا کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان ایک فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت سرحد پر جنگ بندی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ کشیدگی اس سال جولائی میں بھی سامنے آ چکی ہے، جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان پانچ روز تک جاری رہنے والے تصادم میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور تقریباً تین لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے مذاکرات کے ذریعے جھڑپیں کم کرنے اور سرحدی علاقے میں اضافی فوجی تعینات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔تھائی فوج نے مزید کہا کہ فضائی حملے اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ اپنے فوجیوں کی حفاظت کی جا سکے اور سرحد پر جاری خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ کمبوڈیا کی جانب سے بھی اپنی فوجی کارروائیوں کو دفاعی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ جھڑپیں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدوں اور بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کی کڑی آزمائش قرار دی جا رہی ہیں۔سرحدی تنازعات اور فوجی کارروائیاں مقامی باشندوں کے لیے شدید خطرہ ہیں، اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے متاثرہ افراد کے تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سرحدی علاقے میں مزید کشیدگی اور انسانی نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔





