افغان وزیرِ تجارت کا دورۂ بھارت، اقتصادی تعاون میں نئی پیش رفت
افغان وزیرِ تجارت کے بھارتی دورے میں دو طرفہ اقتصادی تعاون، فضائی کارگو راہداری، تجارتی نمائندوں کی تقرری اور مشترکہ چیمبر کے قیام پر اتفاق ہوا۔
افغانستان طالبان حکومت کے وزیرِ صنعت و تجارت الحاج نورالدین عزیزی نے اپنے ایک ہفتے کے دورۂ بھارت کے دوران دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ وہ 19 سے 25 نومبر 2025 تک ایک بڑے تجارتی وفد کے ہمراہ بھارت میں موجود رہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت سامنے آئی۔دورے کے دوران وزیر عزیزی نے بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر سے ملاقات کی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نشست میں دونوں ممالک کے تعلقات، باہمی رابطوں میں بہتری اور خطّے میں اقتصادی گنجائشوں کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ وزارتِ خارجہ کی پریس ریلیز کے مطابق بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں جانب سے تعلقات میں عملی پیش رفت کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔
طالبان وزیر نے بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل کے ساتھ وفدی سطح کی بیٹھک بھی کی، جو دورے کا اہم ترین حصہ قرار دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات میں تجارت کو آسان بنانے، منڈیوں تک رسائی بہتر کرنے، سفری و تجارتی رابطوں میں اضافہ کرنے اور کاروباری مہارتوں کے فروغ سمیت کئی نکات پر غور کیا گیا۔ دونوں وزرا نے کابل۔دہلی اور کابل۔امرتسر کے درمیان براہِ راست فضائی کارگو راہداری شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے جلد خراب ہونے والی مصنوعات اور چھوٹے تاجروں کو خاص فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔اسی تناظر میں دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی طے پایا کہ دونوں ممالک اپنے سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے اور ایک مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری قائم کیا جائے گا تاکہ کاروباری طبقے کو باضابطہ پلیٹ فارم مل سکے۔
وزیر عزیزی نے بھارتی وزیرِ مملکت برائے تجارت جیتن پرساد سے بھی الگ ملاقات کی۔ انہوں نے بھارت انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر 2025 کا دورہ کیا، جہاں افغانستان کے متعدد کاروباریوں نے اپنے مصنوعات کے اسٹال لگائے تھے، جنہیں بھارتی تاجروں اور خریداروں کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی۔بھارت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ اس دورے کو خطے میں اقتصادی تعاون کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔





