امریکہ پر دوہرے معیار کا الزام، ایران کا سخت ردعمل
ایران نے امریکہ پر دوہرے معیار کا الزام لگایا، اسرائیل کی حمایت اور ہرمز معاملے پر تنقید کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معاملات میں مختلف ممالک کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق اسرائیل اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی واضح تضاد کا شکار ہے، جس سے بین الاقوامی انصاف کے اصول متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندی کی حمایت کی اور سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر وہاں پہنچنے والی انسانی امداد کو محدود کرنے کا جواز پیش کیا۔ تاہم دوسری جانب جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتا ہے تو اسی امریکہ کی جانب سے اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طرز عمل کھلے عام دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کو اکثر جائز قرار دیا جاتا ہے، جب کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی قانون کو کسی خاص ملک کے مفادات کے مطابق استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اسے غیر جانبدار اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں متوازن رویہ اختیار کرنا ہوگا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تنازعے کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، کیونکہ یہ اہم سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد سمندری تیل تجارت اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اور اگر یہاں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور مختلف ممالک کی معاشی مشکلات اس کشیدگی کے ممکنہ نتائج میں شامل ہیں۔موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور اس کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔





