دارالعلوم نورالحق چرہ محمد پور میں تعلیمی سال کا شاندار آغاز
بخاری شریف کی بابرکت تقریب سے نئے تعلیمی سفر کا درخشاں آغاز
چرہ محمد پور، فیض آباد/ایودھیا (پریس ریلیز)
ملک کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم نورالحق چرہ محمد پور میں تعطیل کلاں اور جدید داخلہ کی تکمیل کے بعد تمام تعلیمی شعبہ جات میں تدریسی سرگرمیاں تقریباً ایک ہفتہ قبل سے باقاعدہ شروع ہوچکی ہیں۔ نئے تعلیمی سال کے پُرمسرت آغاز پر دارالعلوم کے احاطے میں واقع مدینہ مسجد میں افتتاح بخاری شریف کی روح پرور تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس نے روحانیت اور علم دوستی کی خوشگوار فضا قائم کردی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد دارالعلوم کے ہونہار طلبہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ اور بارگاہِ محدثین میں نعت و منقبت کے گلہائے عقیدت پیش کئے۔
اس پرنور تقریب کی سب سے اہم اور بابرکت گھڑی وہ تھی جب دارالعلوم نورالحق کے شیخ الحدیث، جانشین امام علم و فن، شہزادۂ مفکرِ ملت، جامع معقول و منقول، حضرت علامہ مولانا قاری مقری مفتی محمد مختار الحسن صاحب قبلہ المعروف بہ فاضل بغداد نے بخاری شریف کی پہلی حدیث پڑھا کر درس و تدریس کے باضابطہ آغاز کا اعلان فرمایا۔
حضرت فاضل بغداد نے اس موقع پر امام بخاری علیہ الرحمہ کی حیاتِ مبارکہ اور عظیم علمی خدمات پر سیر حاصل خطاب فرمایا، جس میں نہایت مدلل انداز میں امام بخاری علیہ الرحمہ کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔ آپ کا خطاب علم و حکمت کے موتیوں سے مالا مال تھا اور سامعین پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔
اسی تقریب میں راقم الحروف (قاری رئیس احمد خان) نے علم کی اہمیت اور وقت کی قدر پر مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی۔ آپ نے کہا:
“جو طلبہ وقت کی قدر کرتے ہوئے علم حاصل کریں گے، زمانہ ان کی قدر کرنے پر مجبور ہوگا۔”
اس عظیم الشان تقریب کی نگرانی دارالعلوم کے صدرالمدرسین حضرت مولانا مفتی ذیشان رضا مصباحی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
تقریب میں دارالعلوم کے وائس پرنسپل حضرت مولانا قاری شمس الدین قادری، حضرت مولانا قاری عتیق الرحمن نظامی، شیخ الادب حضرت مولانا مفتی محمد کمال اختر قادری، صدر شعبۂ افتاء حضرت مولانا مفتی غلام حسین صاحب، حضرت مولانا محمد رئیس بستوی، حضرت مولانا محمد عرفان رضا صاحب سمیت دارالعلوم کے جملہ اساتذہ و طلبہ اور علاقہ کے معززین نے شرکت فرما کر اس تقریب کو وقار و عظمت عطا کی۔
تقریب کے اختتام پر حضرت فاضل بغداد نے دارالعلوم کے بانیان و معاونین کی مغفرت، دارالعلوم کی ترقی، اور ملک میں امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعا فرمائی، جس میں تمام حاضرین نے نہایت خلوص سے آمین کہی۔
نووارد طلبہ کا والہانہ استقبال:
نئے داخل ہونے والے طالبانِ علومِ نبویہ جب دارالعلوم کے باب حضور مفتئ اعظم ہند سے داخل ہوتے ہیں تو دو منزلہ خوبصورت عمارتیں، وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی درسگاہ کی وادیٔ نور اور پرشکوہ مدینہ مسجد دیکھ کر فرطِ مسرت سے جھوم اٹھتے ہیں۔ جب انہیں یہاں کے باصلاحیت، مخلص اور علم و تقویٰ سے آراستہ اساتذہ کے بارے میں علم ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس مادرِ علمی کے دامن سے وابستہ کرنا اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔
عوام و خواص سے اپیل:
دارالعلوم نورالحق کے معاونین و خیرخواہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے احباب سے گزارش کی گئی کہ وقت نکال کر کبھی کبھی اس علمی مرکز کا دیدار کریں اور اپنی دعاؤں سے نوازیں۔





