امریکہ اورشام کے تعلقات میں نیاموڑ،صدراحمدالشراع واشنگٹن پہنچ گئے
شامی صدر احمد الشراع واشنگٹن پہنچے، ٹرمپ سے ملاقات میں داعش مخالف تعاون، تعلقات بحالی اور شام پر عائد پابندیوں پر گفتگو متوقع۔
واشنگٹن: شام کے صدر احمد الشراع طویل عرصے کی کشیدگی اور بین الاقوامی تنازعات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ اس تاریخی ملاقات کو شام اور امریکہ کے تعلقات میں ایک ممکنہ نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔احمد الشراع جو کبھی ایک اسلامی شدت پسند گروہ کے اہم رہنما سمجھے جاتے تھے، ان کے سر کی قیمت ماضی میں امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔ تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، شام کی نئی حکومت امریکی اتحاد کے ساتھ داعش کے خلاف عملی تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں دونوں صدور شام کی تعمیر نو، انسدادِ دہشت گردی اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔شام کی وزارتِ داخلہ نے صدر الشراع کی امریکہ آمد سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ سرکاری افواج نے ملک کے مختلف علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔وزارت کے بیان کے مطابق، 61 مقامات پر چھاپوں کے دوران 70 سے زائد مشتبہ جنگجو گرفتار کیے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ضبط کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور دمشق کے درمیان تعلقات میں نرمی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ رواں سال مئی میں ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے احمد الشراع سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس کے بدلے میں، امریکہ نے شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کا عندیہ دیا تھا۔بعد ازاں جولائی میں امریکی حکومت نے شدت پسند تنظیم حیات تحریر الشام (جو ماضی میں القاعدہ سے منسلک تھی) کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے نکال دیا۔ اس اقدام کو ٹرمپ اور الشراع ملاقات کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ میں بھی امریکہ نے ایک قرارداد پیش کی جس کے نتیجے میں سلامتی کونسل نے احمد الشراع پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق وہ احمد الشراع اور شامی وزیرِ داخلہ انس خطاب کے خلاف عائد تمام اقتصادی اور سفری پابندیاں ختم کر رہی ہے۔ دونوں پر ماضی میں داعش اور القاعدہ نیٹ ورک سے تعلق کے الزامات تھے۔احمد الشراع دراصل وہی شخصیت ہیں جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ حیات تحریر الشام کے بانی رہنما اور ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہے ہیں۔ انس خطاب بھی النصرہ فرنٹ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔اقوامِ متحدہ نے 2014 میں دونوں رہنماؤں پر پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن اب شام میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد عالمی برادری کا رویہ واضح طور پر نرم ہوتا جا رہا ہے۔احمد الشراع نے 8 دسمبر 2024 کو ایک خونریز لیکن مختصر بغاوت کے نتیجے میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ اس کے بعد وہ شام کی عبوری حکومت کے سربراہ بن گئے۔پچاس برس سے زیادہ عرصے تک بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد نے شام پر حکمرانی کی، مگر اب ملک ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران احمد الشراع اور ان کی کابینہ نے اپنے شدت پسند ماضی سے فاصلہ اختیار کرنے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب رہتی ہے تو نہ صرف شام بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بھی ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔





