ہند کینیڈا تعلقات میں نیا دور، تجارت دفاع تعاون فروغ
ہند کینیڈا نے جوہری، تجارتی، دفاعی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے، تجارت دوگنا اور تعلقات بحال پر اتفاق کیا۔
انڈیا اورکینیڈا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔ پیر کے روز نئی دہلی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے باہمی روابط کو ازسرِنو مستحکم کرنے اور انہیں طویل المدتی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ برسوں میں دونوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے تھے۔نئی دہلی کے تاریخی حیدرآباد ہاؤس میں نریندر مودی اور مارک کارنی کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی، جس کے بعد کئی اہم معاہدوں کا اعلان کیا گیا۔ سب سے نمایاں پیش رفت شہری جوہری توانائی کے میدان میں تعاون ہے۔ اس معاہدے کے تحت کینیڈا طویل عرصے تک ہندوستان کے ایٹمی بجلی گھروں کے لیے یورینیم فراہم کرے گا، جس سے توانائی کی ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) اور جدید جوہری ٹیکنالوجی میں اشتراک پر بھی اتفاق ہوا۔
اقتصادی محاذ پر دونوں ممالک نے ہدف مقرر کیا ہے کہ ۲۰۳۰ء تک دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر ۵۰؍ ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا گیا ہے، جبکہ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس معاہدے سے تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ انڈو پیسیفک خطے میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز پر باضابطہ تبادلہ خیال کے لیے ایک نیا ہند-کینیڈا دفاعی مکالمہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بحری سلامتی اور دفاعی صنعتوں میں اشتراک اس مکالمے کا اہم حصہ ہوگا۔
اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھی سمجھوتے طے پائے، جو عالمی سطح پر بڑھتی مسابقت کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ توانائی کے روایتی اور قابلِ تجدید ذرائع، بشمول گرین ہائیڈروجن، میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔تعلیم، تحقیق اور اختراع کو اس شراکت داری کا کلیدی ستون قرار دیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، صحت، زراعت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے اور کینیڈین جامعات کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی ترغیب دینے پر اتفاق ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت کو باہمی اعتماد، نئی توانائی اور مشترکہ مستقبل کی تشکیل کی جانب اہم قدم قرار دیا۔





