چھتیس گڑھ میں ماؤ باغیوں کے خلاف بڑے آپریشن
چھتیس گڑھ آپریشن سنکلپ میں فورسز نے کررے گٹالو پہاڑیوں پر کارروائی کرکے مبینہ بائیس ماؤ باغیوں کو ہلاک کیا۔
چھتیس گڑھ کے بستر ڈویژن میں سکیورٹی فورسز اور ماؤ باغیوں کے درمیان جاری لڑائی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے، اور ریاستی حکام نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کی سرحد کے قریب کیے گئے تازہ آپریشن میں کم از کم 22 ماؤ باغی مارے گئے ہیں۔ فورسز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی سب سے مؤثر اور بڑے پیمانے کی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔بستر میں تعینات ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ کرّے گٹّالُو کی دشوار گزار پہاڑیوں اور گھنے جنگلات میں جاری آپریشن ’سَںکلپ‘ کے دوران مجموعی طور پر 26 نکسلیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ آپریشن 21 اپریل کو اس وقت شروع کیا گیا تھا جب قابل اعتماد خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ علاقے میں ماؤ باغیوں کے کئی اہم کمانڈر موجود ہیں اور مستقبل میں بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وِشنو دیو سائے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بیجاپور کے کرّے گٹّا پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے ’’نمایاں کامیابی‘‘ حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں، اور یہ کارروائی ماؤ ازم کے خلاف جاری ریاستی مہم کے لیے ایک ’’فیصلہ کن مرحلہ‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری، قربانی اور حوصلے کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ کرّے گٹّالُو کا پورا خطہ جس میں کھڑی پہاڑیاں، گھاٹیاں اور متعدد چھپی ہوئی غاریں شامل ہیں عرصے سے ماؤ باغیوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ فورسز کا اندازہ ہے کہ یہاں بٹالین نمبر 1، دندکارنیا اسپیشل زونل کمیٹی اور تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی جیسے طاقتور مسلح گروہوں کے بڑے رہنما اور تربیت یافتہ جنگجو چھپے ہوئے تھے۔ریاستی دارالحکومت رائے پور سے تقریباً 450 کلومیٹر دور اس پورے علاقے میں آپریشن کو انتہائی محتاط منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی ابھی جاری ہے اور ممکن ہے آئندہ دنوں میں مزید اہم معلومات سامنے آئیں۔ ان کے مطابق مقصد علاقے کو ماؤ باغیوں کے اثر سے پاک کرنا اور عام لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔





