موربی میں غربت کے ہاتھوں انسانیت شرمسار، خاندان تباہ
موربی(گجرات) میں غربت کے شکار مزدور پر خاندان کے استحصال کا الزام، مالک مکان سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج۔
گجرات کے ضلع موربی سے ایک نہایت دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے معاشی بدحالی، سماجی بے حسی اور انسانی اقدار کے زوال پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس تحقیقات کے مطابق ایک غریب مزدور، جو طویل عرصے سے مالی بحران اور بے روزگاری کا شکار تھا، مبینہ طور پر اپنے خاندان کو تحفظ دینے میں ناکام رہا اور کرایہ ادا نہ کر سکنے کے باعث ایک انتہائی شرمناک اور غیر انسانی صورتحال میں پھنس گیا۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص ایک معمولی مزدوری کرکے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پال رہا تھا، مگر کئی ماہ سے مستقل آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مکان کا کرایہ ادا نہیں کر پا رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماہانہ کرایہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے تھا، لیکن غربت اور قرض کے دباؤ نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ اس نے مبینہ طور پر اپنے مالک مکان کے ساتھ ایسا غیر اخلاقی معاہدہ کر لیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور کمسن بیٹی کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس گھناؤنے جرم میں مالک مکان کے ساتھ ایک اور شخص بھی شریک تھا۔ دونوں ملزمان پر خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سخت دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نابالغ بچی کے بیان کو بھی قانونی طریقے سے قلم بند کیا گیا ہے تاکہ مقدمے کو مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔اس افسوسناک معاملے کا علم اس وقت ہوا جب متاثرہ خاتون کی والدہ، جو بچی کی نانی بھی ہیں، نے پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت موصول ہونے کے بعد فوری کارروائی شروع کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بچی کے والد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مالک مکان کو حالیہ دنوں میں حراست میں لیا گیا۔ ایک اور ملزم اب بھی فرار بتایا جا رہا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔
پولیس اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور متاثرہ خاندان کو قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف غربت کے سنگین اثرات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔





