آر بی آئی کی نئی تجویز، بڑے آن لائن لین دین میں تاخیر
آر بی آئی کی تجویز، آن لائن فراڈ روکنے کے لیے بڑے لین دین میں ایک گھنٹے کی تاخیر اور اضافی حفاظتی اقدامات شامل۔
آن لائن مالیاتی لین دین میں بڑھتے ہوئے فراڈ کے واقعات کے پیش نظر ریزرو بینک آف انڈیا ایک اہم تبدیلی پر غور کر رہا ہے، جس کے تحت دس ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن فوری طور پر مکمل نہیں ہوگی بلکہ اس میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقفہ رکھا جا سکتا ہے۔ اس مجوزہ اقدام کا بنیادی مقصد صارفین کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ اگر کوئی لین دین غلطی سے ہو جائے یا کسی دباؤ کے تحت کیا گیا ہو تو اسے روکا یا منسوخ کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دھوکہ دہی کرنے والے اکثر لوگوں کو جلد بازی پر مجبور کرتے ہیں، جس کے باعث صارفین سوچنے کا موقع گنوا دیتے ہیں، لہٰذا یہ وقفہ انہیں بہتر فیصلہ کرنے کا موقع دے گا۔
اس کے ساتھ ہی بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات زیر غور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ستر سال سے زائد عمر کے افراد یا معذور صارفین کے لیے پچاس ہزار روپے سے زیادہ کی ٹرانزیکشن پر ایک قابل اعتماد فرد کی منظوری ضروری بنائی جا سکتی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فراڈ کو روکا جا سکے۔ تاہم عام صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی فہرست بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ افراد یا تاجر شامل ہوں گے جن کے ساتھ صارفین پہلے سے لین دین کرتے رہے ہیں۔ اس فہرست میں شامل افراد کے ساتھ ادائیگی پر مجوزہ تاخیر لاگو نہیں ہوگی، جس سے روزمرہ معاملات متاثر نہیں ہوں گے۔
مزید برآں ایک نئے فیچر پر بھی غور کیا جا رہا ہے جسے’کل سوئچ‘ کہا جا رہا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے اگر کسی صارف کو اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ کسی مشکوک سرگرمی کا اندیشہ ہو تو وہ فوری طور پر اپنی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ایک ہی بٹن کے ذریعے روک سکے گا، جس سے ممکنہ نقصان کو کم کیا جا سکے گا۔یہ اقدامات اس پس منظر میں تجویز کیے جا رہے ہیں کہ گزشتہ برس ملک میں ڈیجیٹل فراڈ کی رقم بیس ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔ اگرچہ بڑے لین دین کی تعداد نسبتاً کم ہے، لیکن مجموعی نقصان میں ان کا حصہ بہت زیادہ پایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دس ہزار روپے کی حد کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ فی الحال مرکزی بینک ان تجاویز پر متعلقہ اداروں اور بینکوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں ان پر مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے رہنما اصول جاری کیے جائیں گے۔





