ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت
ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، اعلیٰ پاکستانی قیادت نے استقبال کیا، امن مذاکرات اور سفارتی مشاورت کے لیے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کے ساتھ متوقع امن مذاکرات کے سلسلے میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک باضابطہ بیان میں ایرانی وفد کی آمد کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وفد کو خوش آمدید کہا گیا اور اس کے استقبال کے لیے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفد نور خان ایئر بیس پر اترا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ایرانی وفد کے استقبال کے موقع پر پاکستان کی اہم سیاسی و عسکری شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پیش پیش تھے، جب کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی اس موقع پر شریک ہوئے۔ ان اعلیٰ حکام کی موجودگی اس دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو ملک کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ہمراہ کئی اعلیٰ عہدیداران بھی اس دورے میں شریک ہیں، جو مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفد میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور ایرانی پارلیمان کے متعدد اراکین بھی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ صرف سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ اس میں معاشی، دفاعی اور سیاسی پہلو بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کا مقصد نہ صرف امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ قریبی مشاورت بھی اس کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے آئندہ دنوں میں مزید ملاقاتیں اور بیانات سامنے آنے کا امکان ہے، جو خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔





