خبرنامہ

ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سخت بیان کے بعد ایران نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ منگل کے روز اہم تنصیبات، جن میں پاور پلانٹس اور پل شامل ہیں، کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان نے نہ صرف خطے میں بے چینی پیدا کی بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی۔اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ عالمی ادارے کو اس طرح کی کھلی دھمکی پر خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اقوامِ متحدہ واقعی عالمی امن کی ضامن ہے تو اسے ایسے بیانات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
ایرانی حکام نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام لگایا کہ امریکی قیادت خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بیان دراصل عام شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ایران نے اس اقدام کو ممکنہ جنگی جرم کی نیت کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں عالمی قوانین کے منافی ہیں اور انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ مزید برآں، ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
اپنے بیان کے اختتام پر ایران نے زور دیا کہ تمام ممالک اور عالمی اداروں پر یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے خطرناک اقدامات کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر