ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت جواب، خطہ کشیدگی کا شکار
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کا سخت ردعمل، حملے کی صورت میں جوابی کارروائی اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی کے بعد ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ایک معاہدے تک پہنچنے یا آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے محدود وقت دیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ مہلت تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور اگر ایران نے مطلوبہ اقدامات نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہوئی، کیونکہ اس میں ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے سخت لہجے میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج سے منسلک تمام تنصیبات اور ان کے اتحادیوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا، اور یہ کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے بھی اپنے بیانات پر عمل کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا واضح پیغام یہ ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں حالات انتہائی سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اگرچہ انہوں نے براہ راست ٹرمپ کے بیان کا حوالہ نہیں دیا، تاہم ان کے الفاظ میں سختی نمایاں تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی کو ہوا دی گئی تو اس کے اثرات پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ ایران کی طاقت کو کمزور سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی اور جو عناصر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں، وہ خود اس کے نتائج بھگتیں گے۔ ان کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی غیر محتاط اقدام سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔موجودہ بیانات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی فریق کی جانب سے سخت قدم پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔





