نتیجہ کچھ بھی ہو …
ودود ساجد
ایڈیٹر روزنامہ انقلاب
اپنے نتائج کے اعتبار سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ غزہ جنگ سے مختلف ثابت ہوگی۔ گزشتہ آٹھ دن میں اسرائیل نے ایران کے تین ہزار نشانوں پر سات ہزار بم برسائے ہیں۔ ایران کے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ شہری شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے سری لنکا میں ایرانی بحریہ کے اس جہاز کو ڈبو دیا ہے جو ہندوستان کی میزبانی میں مشترکہ مشق کرنے کے بعد ہندوستان سے واپس جارہا تھا۔ سری لنکا کی بحریہ نے متعدد لاشیں نکالی ہیں اور کچھ کو بچابھی لیا ہے۔
اسرائیل اور خلیجی ملکوں میں موجود امریکی اڈوں پر ایران نے دو ہزار ڈرون اور پانچ سو بیلسٹک میزائل برسائے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران کے مقتول مذہبی رہنما خامنہ ای نے جو پیش قیاسی کی تھی وہ درست ثابت ہو رہی ہے اور پورا مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر خلیج کے عرب ممالک بھی اس جنگ کی زد میں آرہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں دنیا کے بہت سے ملکوں کے شہری بھی آباد ہیں۔لہٰذا اس جنگ کے برے اثرات دنیا کے دوسرے خطوں کو بھی منتقل ہونے شروع ہوگئے ہیں۔
اس جنگ کا ایک سب سے بڑا نکتہ یہ بھی ہے کہ ایران کے خلاف ٹرمپ اور نتن یاہو کے اس جنگی جنون کی حمایت کرنے کے باوجود یوروپ کا کوئی ملک عملاً اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ نہیں آیا ہے۔ ٹرمپ اس جنگ کو دنیا کی جنگ بنانا چاہتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف نتن یاہو اس جنگ میں عربوں کو بھی جھونکنا چاہتا تھا۔ برطانیہ اور اسپین نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایران پر الزام ہے کہ اس نے عرب ملکوں کے علاوہ ترکی‘ قبرص اور آذربائیجان پر بھی حملے کئے ہیں۔ یہ حملے اب بھی جاری ہیں لیکن ایران نے کہا ہے کہ عرب ملکوں پر حملوں میں وہ ملوث نہیں ہے اور یہ کہ اس نے صرف ان ملکوں میں موجود امریکی اڈوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صحافی ’ٹکر کارلسن‘ کے اس انکشاف نے ٹرمپ اور نتن یاہو کے ہوش اڑا دئے ہیں کہ قطر اور سعودی عرب نے موساد کے ایجنٹوں کو بم حملوں کی سازش تیار کرتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔ اس انکشاف پر فی الحال قطر اور سعودی عرب دونوں خاموش ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ قطر اور سعودی عرب کے علاوہ اور بھی کئی ملکوں میں موساد کے درجنوں یہودی ایجنٹوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور ان کے قبضہ سے گولہ بارود اور بم برآمد کئے گئے ہیں۔ اس الزام کو ٹرمپ اور نتن یاہو کی اس ہدایت سے بھی تقویت ملتی ہے جو ان دونوں نے خلیجی ملکوں میں موجود اپنے شہریوں کو دی تھی۔ امریکہ نے تو خلیج میں ہی نہیں خود اسرائیل میں موجود اپنے تمام شہریوں کو فوراً نکل آنے کو کہہ دیا تھا۔ان ملکوں میں اس وقت دس لاکھ امریکی آباد ہیں۔ یہ بات سے فہم سے بالاتر ہے کہ جب ان ملکوں میں قائم امریکہ کے فوجی اڈوں میں مجموعی طور پر 90 ہزار فوجی جدید ترین دفاعی آلات اور خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں تو آخر امریکہ کے شہریوں کو کیونکر خطرہ ہوسکتا ہے۔
ایران کے صدر اور وزیر خارجہ دونوں نے مختلف عرب ملکوں اور خاص طور پر قطر اور سعودی عرب کے حکمرانوں سے فون پر گفتگو کی ہے اور ان ملکوں کے مفادات پر ڈرون حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ گزشتہ روز خود سعودی عرب کے محمد بن سلمان نے بھی ایران کے صدر سے گفتگو کی ہے۔۔ یہ بات قرین قیاس بھی لگتی ہے کہ ایسے وقت میں جب ایران کو امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ملکوں کی جارحیت کا سامنا ہو وہ کیسے اپنے خیرخواہ ملکوں کے خلاف محاذ کھول کر مصیبت خرید ے گا۔ اندازہ یہ ہے کہ قطر اور سعودی عرب ایران کے اس الزام کی تحقیقات کر رہے ہوں گے کہ ان پر یہ حملے اسرائیل نے کئے ہیں۔ اس کے امکانات موجود ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں عربوں کو گھسیٹنے کے مقصد سے اسرائیل نے ہی ان ملکوں کے شہری ٹھکانوں پر حملے کرائے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سخت ناگواری اور جوابی کارروائی کی دھمکی دینےکے باوجود عرب ملک ایران کے خلاف ابھی تک ضبط سے کام لے رہے ہیں۔
ٹرمپ اگر اس جنگ سے دنیا کے نقشہ پر کچھ وقار حاصل کرنا چاہتے تھے تو وہ یہ جنگ ہار گئے ہیں۔اندرون ملک ان کی سیاسی مخالفت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس جنگ پر امریکہ اور اسرائیل کے 891 ملین ڈالر ہر روز خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں تین اعشاریہ سات بلین ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔ چونکہ امریکہ میں اس جنگ کا کوئی بجٹ مقرر نہیں کیا گیا تھا لہٰذا جنگی ادارہ پنٹا گن جلد ہی ٹرمپ انتظامیہ سے پیسوں کا مطالبہ کرے گا۔ ایران اپنے دشمن پر جو ڈرون داغ رہا ہے اس کی قیمت 20 ہزار ڈالر ہے جبکہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اسرائیل اور امریکہ کا میزائل چار ملین ڈالر کی قیمت کا ہے۔ اتنے ہی مہنگے ڈرون اس نے خلیج کے ملکوں کو بھی بیچ رکھے ہیں۔
اسرائیل میں اور خاص طور پر تل ابیب اور حیفا میں اس وقت بھی ایران کے حملوں نے تباہی برپا کر رکھی ہے۔ اس کا اعتراف تو خود اسرائیل کا میڈیا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے ابتدائی دو دنوں تک بہت سے مشہور اسرائیلی شہریوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تباہی و بربادی کی تصویریں بھری پڑی تھیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حکام نے شہریوں اور میڈیا پر سخت قسم کی پابندی عاید کردی ہے۔ 28 فروری اور یکم مارچ کو اسرائیل کے ایک سرگرم یہودی رضاکار ’حنینا نفتالی‘ نے اپنے سوشل میڈیا پرتل ابیب کی جو تصویریں نشر کی تھیں انہیں دیکھ کر غزہ کی تباہی کا گمان ہوتا تھا۔ اسرائیل کے اخبار ٹائمز آف اسرائیل اور ٹی وی چینل 13 کی متعدد نشریات میں تل ابیب‘ گریٹر تل ابیب اور حیفا کے علاوہ بیر سبع اور بیر شیبہ میں ایرانی حملوں کی تباہی کی نہ صرف تصویریں اور ویڈیوز دکھائی گئی تھیں بلکہ بہت سے متاثرین کار ردعمل بھی نشر کیا گیا تھا۔ نفتالی نے لکھا تھا کہ ہر طرف تباہی ہے اور ایران ’معصوم شہریوں‘ کونشانہ بنا رہا ہے۔
ادھرحزب اللہ بھی جنگ میں شامل ہوگئی ہے اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس کے حملے زیادہ خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔لبنان کی راجدھانی بیروت پر اسرائیل نے بھیانک حملے کرکے دو سو سے زیادہ شہریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر دیا ہے۔ بیروت کے علاقے ضاحیہ سے بڑی تعداد میں لبنانیوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان سے متصل شمالی اسرائیل میں آباد ڈھائی لاکھ یہودیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے کا انتباہ دیدیا ہے۔ ہزاروں اسرائیلی اپنے گھروں سے بھاگ بھی گئے ہیں۔ الجزیرہ کی نمائندہ ’زینا خودر‘ نے بتایا ہے کہ 2024 میں اس علاقہ میں 60 فیصد تباہی ہوئی تھی اور 35 فیصد کاروبار متاثر ہوا تھا لیکن اس بار اس سے بھی زیادہ خراب صورتحال ہے۔
اسرائیل کا آئرن ڈوم ایک خود کار دفاعی نظام ہے جو دشمن کی طرف سے آنے والے میزائل کو پہنچنے سے پہلے پہچان لیتا ہے۔ یہ نظام ایک طرف جہاں چالیس سیکنڈ پہلے سائرن بجاکر شہریوں کو متنبہ کر دیتا ہے وہیں دوسری طرف ایک میزائل شکن ہتھیار نکل کر فضا میں جاتا ہے اور آنے والے میزائل کا پیچھا کرکے اسے فضا میں ہی مار گرادیتا ہے۔ آئرن ڈوم حیفا میں قائم اسرائیلی کمپنی ’رافایل‘ نے بنایا ہے۔اس میں امریکہ نے مالی معاونت کی ہے۔ لہٰذا امریکہ کی اجازت کے بغیر اسے اسرائیل کے علاوہ کسی دوسرے ملک کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کے پاس اس طرح کے 10 آئرن ڈوم ہیں جو پورے اسرائیل میں چاروں طرف نصب ہیں۔ حال ہی میں خود اسرائیل کے مطابق ایران کے دس فیصد بیلسٹک میزائل نشانوں پر آکر گرے ہیں اور ان سے شدید نقصان ہوا ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ ایران نے ’کلسٹر‘ بم بھی برسانے شروع کردئے ہیں۔
ایک میزائل اپنے اندر 20 بم لے کر اڑتا ہے اور نشانہ پر جاکر کھل جاتا ہے۔ اس میں موجود 20 بم آٹھ کلومیٹر کے دائرہ میں چاروں طرف پھیل کر پھٹ جاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے مطابق ان بموں کا استعمال ممنوع ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے صحافی ’سام سوکول‘ نے یکم مارچ کو ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ ایک متاثر ’یارین‘ نے ایک تباہ شدہ عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ہم اس محفوظ روم میں تھے جہاں کوئی میزائل اور ڈرون نہیں پہنچ سکتا‘ لیکن اچانک ہم نے ایک دھماکہ کی آواز سنی اور ہر طرف دھار دار لوہے اور بارود کے ٹکڑے پھیل گئے‘۔ اس حملہ میں اسرائیل کے 11 شہری مارے گئے تھے۔ایران کا بیلسٹک میزائل اسرائیل کے دفاعی نظام آئرن ڈوم کو دھوکا دیتے ہوئے زیر زمین بنی ہوئی محفوظ پناہ گاہ تک پہنچ گیا تھا۔ اسی علاقہ میں یہودیوں کی عبادتگاہ ’سینگاگ‘ کو بھی تباہ کردیا گیاتھا۔
امریکہ خود کو عرب ملکوں کا دوست قرار دیتا ہے اور ایران کو عرب ملکوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے لیکن دوسری طرف حال یہ ہے کہ اس نے عرب ملکوں کو وہ دفاعی نظام نہیں خریدنے دیا جو اسرائیل کے پاس ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ’تھاڈ اور پیٹریاٹ‘ نامی دفاعی نظام رکھتے ہیں جبکہ قطر اور کویت کے پاس پیٹریاٹ ہے۔ ترکی کے پاس ایس 400 ہے اور ایران کے پاس خود اس کا بنایا ہوا ’باور ‘373 ہے۔ اسرائیل سمیت بہت سے ملکوں کو ’میزائل شکن دفاعی نظام‘ فراہم کرنے والی مشہور کمپنی ’لوک ہیڈ‘ پچھلے سال محض 620 ’انٹرسیپٹر‘ ہی بناسکی تھی۔ ان 620 میں سے اسے یوکرین‘ ناٹو‘ جاپان‘ تائیوان‘ اسرائیل‘ اردن‘ کویت‘ یواے ای‘ بحرین‘ قطر اور سعودی عرب کو بھی دینے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو میزائل شکن ہتھیاروں کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔
اس جنگ سے خلیج کو بہت سی ’انہونیوں‘ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ قطر انٹرنیشنل ایرپورٹ پر تاریخ میں پہلی بار حملہ ہوا ہے۔ جبکہ سعودی عرب کی تیل کی ریفائنری ’آرامکو‘ پر بھی حملہ ہوا۔ بحرین اور یواے ای میں تو مسلسل اس طرح کے حملے ہو رہے ہیں۔ایران نے کہا ہے کہ یہ حملے اس نے نہیں کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر کس نے اور کیوں کئے ہیں۔ابتدا میں قطر اور سعودی عرب نے ایران پر سخت ناگواری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ہمارے اوپر حملہ کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ لیکن اب دونوں ملک خاموش ہیں اور اس طرح کی دھمکی نہیں دے رہے ہیں۔ کویت میں متعدد امریکی جنگی جہاز بھی مار گرائے جانے کی خبر ہے۔ ایران نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے یہ جنگی جہاز ایران نے نہیں گرائے ہیں بلکہ کویت کے دفاعی نظام نے غلطی سے گرادئے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کویت میں امریکی جنگی جہاز ایران نے ہی گرائے ہیں تاہم ٹرمپ ذلت کے خیال سے اس کا سہرا ایران کے سربا ندھنے سے کترا رہے ہیں۔تل ابیب میں بھی نتن یاہو کے دفتر پر ایران نے میزائل داغنےکا دعویٰ کیا ہے۔ اب ایران کے حملوں کی رفتار میں 80 فیصد کی کمی آگئی ہے۔اس کے دو سبب ہوسکتے ہیں: یا تو امریکہ کے دعوے کے مطابق فی الواقع ایران کے میزائل لانچرس بڑی تعداد میں تباہ کردئے گئے ہیں اور یا ایران کسی حکمت عملی کے تحت حملے کم کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ہر حال میں ایران میں اقتدار میں تبدیلی لاکر رہیں گے بھلے ہی اس کیلئے ایران میں اتر کر زمینی جنگ لڑنی پڑے۔ ایران کے وزیر خارجہ اور فوج نے کہا ہے کہ ہم امریکہ اور اسرائیل کی فوجوں کا اپنی سرزمین پر انتظار کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران میں زمینی جنگ لڑنا آسان نہیں ہوگا۔ برطانیہ کے ایک تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ تاریخ میں اقتدار کی تبدیلی کبھی بھی زمینی جنگ کے علاوہ کسی اور راستہ سے نہیں آئی ہے۔ سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور مشہور تجزیہ نگار شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ’یہ واضح طور پر نتن یاہو کی جنگ ہے‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عرب ملکوں نے سخت غم و غصہ کے باوجود ابھی تک ایران کے مبینہ حملوں کا جواب نہیں دیا ہے۔ بہر حال ایران کا جو بھی حشر ہو امریکہ اور اسرائیل تو ہار ہی گئے ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو اس جنگ میں اگر عرب ملکوں نے ضبط کا مظاہرہ جاری رکھا تو اس جنگ کے اولین فاتح وہی ہوں گے۔





