بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، کرناٹک اور آندھرا میں دوڑ
کرناٹک اور آندھرا پردیش کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے منصوبے بنا رہے ہیں، مقصد بچوں کو ڈیجیٹل نقصانات سے بچانا ہے۔
بھارت کی دو جنوبی ریاستیں، کرناٹک اور آندھرا پردیش، اس وقت اس بات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والا پہلا صوبہ کون بنتا ہے۔ دونوں ریاستی حکومتوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اسی لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔کرناٹک حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ سدارمیا نے یہ اعلان اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کی ذہنی اور تعلیمی زندگی پر منفی اثرات ڈالنے شروع کر دیے ہیں، اس لیے حکومت اس رجحان کو قابو میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اس سے قبل 22 فروری کو ریاستی جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ ایک اجلاس میں بھی اس مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے سربراہان سے درخواست کی تھی کہ وہ ایسے عملی منصوبے تیار کریں جن کے ذریعے 16 سال سے کم عمر طلبہ میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔دوسری جانب آندھرا پردیش کی حکومت بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ ریاست کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، نارا لوکیش نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ کرناٹک کا یہ اقدام دراصل اس خیال کی نقل ہے جو آندھرا پردیش میں پہلے پیش کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی پہلوؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک ضروری قدم ہے، اور بعض اوقات اچھے خیالات تیزی سے پھیل جاتے ہیں۔
آندھرا پردیش کی وزیرِ داخلہ ونگلپودی انیتا نے اسمبلی کو بتایا کہ حکومت 13 سال سے کم عمر بچوں کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے بھی اعلان کیا کہ ان کی حکومت آئندہ 90 دنوں کے اندر ایک ایسا پروگرام شروع کرے گی جس کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 13 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے بھی الگ ضابطوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وسیع مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد ہی کیا جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً 27 سال پہلے بھی آندھرا پردیش اور کرناٹک کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں سخت مسابقت دیکھی گئی تھی۔ اس وقت دونوں ریاستیں آئی ٹی صنعت میں سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں، اور آج ایک بار پھر ڈیجیٹل پالیسی کے ایک نئے پہلو میں مقابلہ سامنے آ رہا ہے۔





