شنکراچاریہ کیس میں گرفتاری کا خدشہ، ہائی کورٹ میں سماعت
پریاگ راج میں شنکراچاریہ پر پوکسو مقدمہ درج، پولیس تحقیقات جاری، ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی سماعت متوقع جلد۔
پریاگ راج سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شنکراچاریہ معاملے میں سوامی اوِمکتیشورانند سرسوتی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بٹوکوں (نوآموز مذہبی طلبہ) کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات ابتدائی تفتیش میں درست سمت میں جاتے محسوس ہو رہے ہیں۔ یہ معاملہ کم عمر بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی استحصال سے متعلق ہے، جس کی حساسیت کے پیش نظر پولیس نے کارروائی تیز کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق تولسی پیٹھادھیشور سوامی رام بھدراچاریہ کے شاگرد آشو توش برہمچاری مہاراج نے ضلع عدالت پریاگ راج میں بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 173(4) کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔ 21 فروری کو پوکسو ایکٹ کے خصوصی جج ونود کمار چوراسیا نے جھونسی تھانے کی پولیس کو ایف آئی آر درج کر کے باقاعدہ تفتیش کا حکم دیا۔ عدالتی ہدایت کے بعد پولیس نے سوامی اوِمکتیشورانند سرسوتی، ان کے شاگرد سوامی مکوُندانند گیری اور چند نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا۔
پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 351(3) کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعات 5(ایل)، 6، 3، 4(2)، 16 اور 17 کے تحت کیس درج کیا ہے۔ دورانِ تفتیش متاثرہ فریق سے وابستہ متعدد افراد کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اب تک کی جانچ میں لگائے گئے الزامات کی تائید کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجہ مکمل تفتیش اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔دوسری جانب گرفتاری سے بچنے کے لیے سوامی اوِمکتیشورانند سرسوتی اور ان کے شاگرد سوامی مکوُندانند گیری نے الہ آباد ہائی کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں ریاستی حکومت، شکایت کنندہ، ہائی کورٹ لیگل سروس کمیٹی اور بال کلیان سمیتی کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک انہیں عبوری تحفظ فراہم کیا جائے، بصورت دیگر انہیں ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ درخواست جسٹس جتیندر کمار سنہا کی سنگل بینچ میں 27 فروری کو زیرِ سماعت آئے گی۔ مزید برآں، مصنفہ بھومیکا دویویدی کی جانب سے مٹھ کے احاطے میں خفیہ کمروں، پوشیدہ دروازوں اور سوئمنگ پول سے متعلق دعووں نے بھی معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ فی الحال عوامی اور قانونی حلقوں کی نظریں پولیس تفتیش اور ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔





