کٹیہار آتشزدگی متاثرین کیلئے پپو یادو کی مالی امداد
کٹیہار منڈی آتشزدگی میں 500 دکانیں جلیں، پپو یادو نے متاثرین میں مالی امداد تقسیم کی اور حکومتی تعاون کا مطالبہ کیا۔
بہار کے ضلع کٹیہار کے قصبہ کُرسیلا میں واقع ہاٹ بازار کی مرکزی منڈی 15 فروری کو ایک ہولناک آتشزدگی کی لپیٹ میں آ گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ سو چھوٹی اور بڑی دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے بازار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ خاندانوں کے روزگار کا واحد ذریعہ بھی اسی سانحے میں تباہ ہو گیا، جس کے باعث علاقے میں گہری تشویش اور افسردگی پھیل گئی۔اس افسوسناک واقعے کے بعد پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمان پپویادو متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ دکانداروں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، ان کے حالات سنے اور فوری مالی امداد فراہم کی۔ اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً دس لاکھ روپے کی مدد تقسیم کی گئی۔ بڑے نقصان سے دوچار تاجروں کو بند لفافوں میں دس، دس ہزار روپے کے چیک دیے گئے، جبکہ چھوٹے دکانداروں میں پانچ، پانچ ہزار روپے نقد تقسیم کیے گئے تاکہ وہ ابتدائی ضروریات پوری کر سکیں۔
پپو یادو نے اس موقع پر کہا کہ یہ رقم ان کے ذاتی روابط اور بیرونِ ملک، خصوصاً دبئی میں مقیم احباب کے تعاون سے جمع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر حکومت کو فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم جب سرکاری سطح پر خاطر خواہ قدم نظر نہیں آتا تو عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مدد کریں۔انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ غریب تاجروں کی بینک قسطیں کم از کم پانچ سے چھ ماہ تک مؤخر کی جائیں، تاکہ وہ دوبارہ اپنے کاروبار کو سنبھال سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں سیاسی بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے اور عوام کے دکھ درد کو سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔
مزید برآں انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وزیر اعظم رہائشی اسکیم کے تحت متاثرین کو جلد از جلد پختہ مکانات اور دکانوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کے بقول سیمانچل اور کوسی کا خطہ ان کی زندگی کا حصہ ہے، اور ایسے بحران میں وہ اپنے بیٹے ہونے کا فرض ادا کر رہے ہیں۔





