گلگوٹیا یونیورسٹی کے روبوٹک ڈاگ پر حکومتی وضاحت
گلگوٹیا یونیورسٹی کے روبوٹک ڈاگ تنازع پر حکومت نے مستند نمائش اور ضابطۂ اخلاق پر زور دیا، ادارے نے معذرت کی۔
گلگوٹیا یونیورسٹی میں پیش کیے گئے ایک روبوٹک ڈاگ کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع پر وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم ٹیکنالوجی تقریب کے دوران اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی، جس کے بعد وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعلیٰ حکام نے وضاحت پیش کی۔وزارت کے سیکریٹری ایس کرشنن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ کسی بھی ایکسپو یا ٹیکنالوجی نمائش میں وہی منصوبے اور مصنوعات پیش کی جائیں جو حقیقی، مستند اور اصل کام کی نمائندگی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقریبات کا مقصد اختراعات اور تحقیق کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا متنازع صورتحال کو جنم دینا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ جاری سمٹ کے دوران کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے جو بحث و تکرار کا باعث بنے۔
ایس کرشنن نے مزید کہا کہ ایسے بڑے عالمی نوعیت کے پروگراموں میں ایک ضابطۂ اخلاق کی پابندی ضروری ہے تاکہ غلط معلومات یا مبالغہ آرائی کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تقریب خوش اسلوبی سے جاری رہے اور کسی بھی قسم کا تنازع ماحول کو متاثر نہ کرے۔ انہوں نے اس سوال پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا یونیورسٹی کا اقدام درست تھا یا نہیں، البتہ اس بات پر زور دیا کہ غیر مصدقہ دعوؤں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب دہلی میں منعقدہ “اے آئی امپیکٹ سمٹ” میں ایک روبوٹک ڈاگ کی نمائش کی گئی۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چین میں تیار کیا گیا تھا، تاہم اسے مقامی اختراع کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس پر تنقید بڑھنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے وضاحت جاری کی اور اسے “رابطے کی غلطی” قرار دیتے ہوئے معذرت بھی کی۔
صورتحال کے پیشِ نظر حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں شفافیت اور سچائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، تاکہ تحقیق اور جدت کے شعبے میں اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔





