راہل گاندھی کا کسانوں کے حق میں دوٹوک اعلان
راہل گاندھی نے امریکی تجارتی معاہدے کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وہ ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے، چاہے اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، مقدمات قائم ہوں یا پارلیمنٹ میں استحقاق کی تحریک ہی کیوں نہ پیش کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دباؤ یا قانونی کارروائیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں اور کسانوں کے مفادات کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کوئی تجارتی معاہدہ کسانوں کی روزی روٹی چھینتا ہے یا ملک کی غذائی سلامتی کو کمزور کرتا ہے تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسے معاہدے کسان دشمن پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ ان کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسان ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ایک ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ ایک ایسا تجارتی سمجھوتہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کپاس، سویا بین، سیب اور دیگر پھلوں کے کاشتکار متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے غیر ملکی مصنوعات کو بھارتی منڈی تک زیادہ رسائی ملے گی، جس سے مقامی کسانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے کسانوں کو اعتماد میں لیے بغیر اہم فیصلے کیے ہیں۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی طاقتیں طویل عرصے سے بھارت کی زرعی منڈی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں اور حالیہ پالیسیوں سے انہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ ملک کی خودمختاری اور غذائی تحفظ کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسان کمزور ہوں گے تو ملک کی معیشت بھی کمزور ہو جائے گی۔
انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کسانوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ان کے بقول حکومت کو کسانوں کے خدشات دور کرنے چاہئیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے زرعی شعبہ متاثر ہو۔





