یوپی بجٹ پر اکھلیش اور بی جے پی آمنے سامنے
یوپی کے وداعی بجٹ پر اکھلیش کی تنقید، بی جے پی کا ترقی اور عوامی خوشحالی کا دعویٰ سامنے آگیا۔
اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بدھ کے روز اپنے موجودہ دورِ حکومت کا آخری بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، جس پر صوبے کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ اس بجٹ سے قبل ہی مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور حکومتی و اپوزیشن حلقے آمنے سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔سابق وزیرِ اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں طنزیہ انداز اپنایا۔ انہوں نے لکھا کہ اتر پردیش حکومت کے اس’وداعی بجٹ‘کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھی رخصتی طے ہے۔ ان کے بیان کو آئندہ انتخابات کے تناظر میں سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ عوام اب تبدیلی کا ارادہ کر چکی ہے۔
دوسری جانب ریاست کے نائب وزیرِ اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے اپوزیشن کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا بجٹ صوبے کے 25 کروڑ عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانے والا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ بجٹ ’ترقی یافتہ بھارت کے وژن کے تحت ترقی یافتہ اتر پردیش‘ کی سمت ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسا مالی منصوبہ پیش کیا جائے جو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو، غریبوں کی فلاح کو یقینی بنائے اور ریاست کی مجموعی معیشت کو مستحکم کرے۔کیشو پرساد موریہ نے سماج وادی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اقتدار سے دوری کا ’ذہنی مرض‘ لاحق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سماج وادی پارٹی کو نہ صرف موجودہ دور میں بلکہ آنے والے کئی برسوں تک بھی اقتدار نصیب نہیں ہوگا۔ ان کے اس بیان کو سیاسی جوابی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بجٹ سے پہلے ہی انتخابی ماحول بننا شروع ہو چکا ہے۔
یوں اتر پردیش کا یہ بجٹ صرف مالی دستاویز نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کا بھی اہم حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایک طرف حکومت ترقی اور فلاح کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اسے رخصتی کا اشارہ قرار دے رہی ہے۔





