پپو یادو کو 31 سال پرانے کیس میں ضمانت مل گئی
پپو یادو کو 31 سال پرانے دھوکہ دہی کیس میں ضمانت ملی، مگر بدھا کالونی کیس کی وجہ سے جیل میں رہیں گے۔
بہار سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان پپو یادو کو 31 سال پرانے مبینہ دھوکہ دہی کے مقدمے میں پٹنہ کی سول عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔ تاہم اس عدالتی ریلیف کے باوجود وہ فوری طور پر جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے، کیونکہ ان کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے جس میں انہیں ابھی تک ضمانت حاصل نہیں ہوئی۔عدالتی ذرائع کے مطابق یہ پرانا کیس 1995 کا ہے اور اس کا تعلق پٹنہ کے گردنی باغ تھانے کے علاقے سے ہے۔ شکایت گزار ونود بہاری لال نے الزام عائد کیا تھا کہ پپو یادو اور ان کے بعض ساتھیوں نے مبینہ طور پر دھوکے سے ان کا مکان کرائے پر حاصل کیا اور بعد ازاں اس پر قبضہ جما لیا۔ اس مقدمے میں دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ دھمکی اور سازش جیسے الزامات شامل کیے گئے تھے۔ طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنے کے بعد اب اس کیس میں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کے باوجود پپو یادو کو بدھا کالونی کیس نمبر 72/26 میں عدالتی تحویل کے تحت جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ اس مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت آئندہ روز متوقع ہے۔ جب تک دوسرے کیس میں بھی انہیں قانونی ریلیف نہیں ملتا، ان کی رہائی ممکن نہیں ہوگی۔پپو یادو کے ترجمان راجیش یادو نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے جو انصاف کے نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کے نمائندوں نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے زور دیا کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیر شروَن کمار کا بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور پولیس اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق انجام دے رہی ہے۔





